مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 589 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 589

ایک فیصلہ کرنے والا اشتہار انعامی ہزار روپیہ میاں رشید احمد گنگوہی وغیرہ کی ایمانداری پرکھنے کے لئے جنہوں نے اس عاجز کی نسبت یہ اشتہار شائع کیا ہے کہ یہ شخص کافر اور دجال اور شیطان ہے اور اس پر لعنت اور سبّ و شتم کرتے رہنا ثواب کی بات ہے اور اس اشتہار کے وہ سب مکفّر مخاطب ہیں جو کافر اور اکفر کہنے سے باز نہیں آتے خواہ لدھیانوی ہیں یا امرتسری یا غزنوی یابٹالوی یا گنگوہی یا پنجاب اور ہندوستان کے کسی اور مقام میں الا لعنۃ اللّٰہ علی الکافرین المکفّرین الذین یکفرون المسلمین۔اب اُن سب پر واجب ہے کہ اپنے ہم جنس مولوی محمدحسن صاحب لدھیانوی کو قسم دلوا کر ہزار روپیہ ہم سے لے لیں ورنہ یاد رکھیں کہ وہ سب بباعث تکفیر مسلم اور انکار حق کے ابدی لعنت میں مبتلا ہوکر تمام شیاطین کے ساتھ جہنم میں پڑیںگے اور نیز یاد رہے کہ قسم اسی مضمون کی ہوگی جو اشتہار ھٰذا میں درج ہے۔اے علمائے مکفّرین اُن آثار اور اخبار کی نسبت کیا کہتے ۱؎ ہو جن کو امام عبد الوہاب شعرانی اور دوسرے اکابر متقدمین نے اپنی اپنی کتابوں میں مبسوط طور پر نقل کیا ہے۔جن میں سے کچھ حصہ مولوی صدیق حسن خان بھوپالوی نے اپنی فارسی کتابوں حجج الکرامہ وغیرہ میں بطور اختصار لکھا ہے کہ مہدی موعود کے چار نشان خاص ہیں جن میں اس کا غیر شریک نہیں۔۱؎ نوٹ۔یہ کہنا بے جاہو گا کہ یہ احادیث ضعیف ہیں یا بعض روایات مجروح ہیں یا حدیث منقطع اور مرسل ہے۔کیونکہ جس حدیث کی پیشگوئی واقعی طور پر سچی نکلی اس کا درجہ فی الحقیقت صحاح سے بھی بڑھ کر ہے کیونکہ اس کی صداقت بدیہی طور پر ظاہر ہوگئی۔غرض جب حدیث کی پیشگوئی سچی نکلی تو پھر بھی اس میں شک کرنا صریح بے ایمانی ہے۔