مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 584
مجموعه اشتہارات ۵۸۴ جلد اول کی تفسیر در منثور سورہ انبياء - قال اخرج ابن ابی حاتم عن ابن عباس قال لما دعا يونس على قومه اوحى الله اليه ان العذاب يصبحهم۔۔۔۔۔ فلما رأوه جاروا الى الله و بكى النساء والولدان ورغت الابل وفصلانها وخارت البقر وعجاجيلها ولغت الغنم و سخالها فرحمهم الله وصرف ذلك العذاب عنهم وغضب يونس وقال كذِبتُ فهو قوله اذ ذهب مغاضبًا ۔ یعنی ابن ابی حاتم نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ جبکہ یونس نے اپنی قوم پر بددعا کی سو خدا تعالیٰ نے اس کی طرف وحی بھیجی کہ صبح ہوتے ہی عذاب نازل ہوگا پس جبکہ قوم نے عذاب کے آثار دیکھے تو خدا تعالیٰ کی طرف تضرع کیا اور عورتیں اور بچے روئے اور اونٹنیوں نے ان کے بچوں کے سمیت اور گائیوں نے ان کے بچھڑوں کے سمیت اور بھیڑ بکری نے ان کے بزغالوں کے سمیت خوف کھا کر شور مچایا۔ پس خدا تعالیٰ نے ان پر رحم کیا اور عذاب کو ٹال دیا اور یونس غضب ناک ہوا کہ مجھے تو عذاب کا وعدہ دیا گیا تھا یہ قطعی وعدہ کیوں خلاف واقعہ نکلا ۔ پس یہی اس آیت کے معنے ہیں کہ یونس غضبناک ہوا۔ اب دیکھو کہ یہاں تک یونس پر ابتلا آیا کہ كُذِبتُ اس کے منہ سے نکل گیا یعنی مجھ پر کیوں ایسی وحی نازل ہوئی جس کی پیشگوئی پوری نہ ہوئی اگر کوئی شرط اس وعدہ کے ساتھ ہوتی تو یونس باوجود یکہ اس کو خبر پہنچ چکی تھی کہ قوم نے حق کی طرف رجوع کر لیا کیوں یہ بات منہ پر لاتا کہ میری پیشگوئی خلاف واقعہ نکلی۔ اور اگر کہو کہ یونس کو ان کے ایمان اور رجوع کی خبر نہیں پہنچی تھی اور اس وہم میں تھا کہ باوجود کفر پر باقی رہنے کے عذاب سے بچ گئے اِس لئے اُس نے کہا کہ میری پیشگوئی خلاف واقعہ نکلی سو اس کا دندان شکن جواب ذیل میں لکھتا ہوں جو سیوطی نے زیر آیت و ان یونس الخ لکھا ہے قال واخرج ابن جرير وابن ابی حاتم عن ابن عباس قال بعث الله يونس الى اهل قرية فردوا عليه فامتنعوا منه فلما فعلوا ذلك اوحى الله اليه اني مرسل عليهم العذاب في يوم كذا وكذا فخرج من بين اظهرهم فاعلم قومه الذي وعدهم الله من عذابه اياهم فلما كانت الليلة التي وعد العذاب في صبيحتها فراه القوم