مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 580
صاف طور پر وحی وارد ہوچکی تھی کہ پندرہ دن تک اس کی زندگی ہے پھر فوت ہو جائے گا لیکن اس کی دعا اور تضرع سے خدا تعالیٰ نے وہ پندرہ دن کا وعدہ پندرہ سال کے ساتھ بدلا دیا اور موت میں تاخیر ڈال دی۔یہ قصہ مفسرین نے بھی لکھا ہے بلکہ اور حدیثیں اس قسم کی بہت ہیں جن کا لکھنا موجب طول ہے بلکہ علاوہ وعید کے ٹلنے کے جو کرم مولیٰ میں داخل ہے اکابر صوفیاء کا مذہب ہے جو کبھی وعدہ بھی ٹل جاتا ہے اور اس کا ٹلنا موجب ترقی درجات اہل کمال ہوتا ہے دیکھو فیوض الحرمین شاہ ولی اللہ صاحب اور فتوح الغیب سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہما ۱؎ اور وقتوں اور میعادوں کا ٹلنا تو ایک ایسی ۱؎ نوٹ۔ان بزرگوں نے جو عدم ایفاإ وعدہ خدا تعالیٰ پر جائز رکھا ہے تو اس سے یہی مراد ہے کہ جائز ہے کہ جس بات کو انسان نے اپنے ناقص علم کے ساتھ وعدہ سمجھ لیا ہے وہ علم باری میں وعدہ نہ ہو بلکہ اس کے ساتھ ایسے مخفی شرائط ہوں جن کا عدم تحقق عدم تحقق وعدہ کیلئے ضروری ہو اور علامہ محقق سید علی بن سلیمان مغربی نے اپنی کتاب وَشی الدیباج علٰی صحیح مسلم بن الحجاج کے صفحہ ۱۲۶ میں تحت حدیث یخشی ان تکون الساعۃ لکھا ہے۔فانہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لکمال معرفتہ بربہ لا یری وجوب شیء علیہ تعالٰی ککون الساعۃ لا تقوم الا بعد تلک المقدمات ای خروج الدجال وغیرہ و ان وعد بہ۔یعنی آنحضرت صلعم اپنے کمال معرفت کی وجہ سے قبل از قیامت ان علامات کا ظاہر ہونا ضروری نہیں سمجھتے تھے اور خدا تعالیٰ پر یہ حق واجب نہیں خیال کرتے تھے کہ اس کے وعدہ کے موافق دجال اور دآبۃ الارض اور مہدی موعود وغیرہ علامات موعودہ پوری ہوں پھر قیامت آوے بلکہ وہ اس بات پر ایمان رکھتے تھے کہ ممکن ہے کہ قیامت آ جائے اور ان علامتوں میں سے کوئی بھی ظاہر نہ ہو اور کسی قدر اسی کے موافق مواہب لدنیہ کی شرح میں لکھا ہے جو امام علامہ محمد بن عبد الباقی کی طرف سے ہے اور جواز نسخ اخبار کی طرف اشارہ کیا ہے دیکھو صفحہ ۴۵ شرح مذکور لیکن میرے نزدیک ان بزرگوں کا ہرگزیہ منشا نہیں ہوگا کہ آنحضرت صلعم وعدہ کو فی الحقیقت وعدہ سمجھ کر پھر جو ازعدم ایفائے وعدہ کے قائل تھے کیونکہ تخلّف وعدہ ایک نقص ہے جو خدا تعالیٰ پر جائز نہیں بلکہ آنحضرت صلعم یہ سمجھتے ہوں گے کہ خروج دجال اور ظہور مہدی وغیرہ یہ سب مواعید تو برحق ہیں لیکن ممکن ہے کہ انکے ظہور کے لئے شرائط ہوں جن کے عدم سے یہ بھی حیز عدم میں رہیں اور یاممکن ہے کہ ایسے طور سے یہ وعدے ظہور میں آجائیں کہ ان پر اطلاع بھی نہ ہو کیونکہ سنت اللہ میں پیشگوئیوں کے ظہور کے لئے کوئی ایک طور اور طریق