مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 579
شیخ محمد حسین بٹالوی ہم کو ایک مخلص کے ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ بٹالوی صاحب نے اس پیشگوئی کے متعلق اور نیز اشتہار ۶؍ اکتوبر ۱۸۹۴ء کے متعلق جو احمد بیگ کے داماد کی نسبت شائع کیا گیا تھا چند اعتراض کئے ہیں جن کا جواب مع تصریح اعتراض ذیل میں لکھتا ہوں۔قولہ۔بے چارہ عبد اللہ آتھم عیسائی ان کے مذہب میں قسم کھانا منع ہے لالچ کرنا منع ہے۔الجواب۔اگر قسم کھانا منع ہے تو پطرس نے کیوں قسم کھائی پولس نے کیوں قسم کھائی خود مسیح نے کیوں قسم کی پابندی کی انگریزی عدالتوں نے کیوں عیسائیوں کے لئے قسم مقرر کی بلکہ قانون کے رو سے دوسروں کے لئے اقرار صالح اور عیسائیوں کے لئے حلف ہے تحریف اور تلبیس یہود اور نصاریٰ کے عادات میں سے ہے لیکن نہ معلوم کہ ان مولویوں نے کیوں یہ عادات اختیار کر لئے سو اے اسلام کے دشمنو اِن خیانتوں سے باز آ جائو کیا یہودیوں کا انجام اچھا ہوا کہ تا تمہارا بھی نیک انجام ہو اور لالچ وہ حرص ہے جو دیانت اور دین کے برخلاف ہو پس جبکہ ہم انعام کے طور پر خود روپیہ پیش کرتے ہیں اور آتھم صاحب اپنی نفسانی خواہش سے نہیں مانگتے بلکہ ہم خود دیتے ہیں اور قسم کھانا ان کے مذہب میں نہ صرف جائز بلکہ لکھا ہے کہ جو قسم نہ کھاوے وہ جھوٹا ہے تو ایسے روپیہ کا لینا جو بغیر میل نفس کے ہے لالچ میں کیونکر داخل ہوا۔قولہ۔یہ قرآن میں نہیں کہ عذاب کا وعدہ آیا اور کسی قدر خوف سے ٹل گیا۔الجواب۔تمام قرآن اس تعلیم سے بھرا پڑا ہے کہ اگر تو بہ و استغفار قبل نزول عذاب ہو تو وقت نزول عذاب ٹل جاتا ہے بائبل میں ایک بنی اسرائیل کے بادشاہ کی نسبت لکھا ہے کہ اس کی نسبت نوٹ۔اگر میاں محمد حسین بٹالوی آتھم صاحب کی وکالت کر کے یہ رائے ظاہر کرتے ہیں کہ عیسائی مذہب میں قسم کھانا منع ہے تو ان پر واجب ہے کہ اب عیسائیوں کے مددگار بن کر اپنی اس ہذیان کا پورا پورا ثبوت دیں اور اس اشتہار کا رد لکھائیں ورنہ بجز اس کے اور کیا کہیں کہ لَعْنَتُ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ۔