مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 557
وفات تھی ایک شدید خوف اور حزن اس کے دل پر وارد ہو گیا۔اور نہ صرف اس کے دل پر بلکہ اس کے تمام متعلقین کو اس خوف اور حزن نے گھیر لیا اور یہ بات ظاہر ہے کہ جب دو آدمی کی موت ایک ہی پیشگوئی میں بیان کی گئی ہو اور ایک ان میں سے میعاد کے اندر مر جائے تو وہ جو دوسرا باقی ہے اس کی بھی کمر ٹوٹ جاتی ہے کیونکہ ایک ہی موت کے دونوں نیچے تھے۔پس جو زندہ رہ گیا ہے وہ جب ایسی موت کو دیکھتا ہے ایک ایسا جانکاہ غم اس کو پکڑ لیتا ہے کہ اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔یعنی وہ بھی قریب قریب میت ہی کے ہوتا ہے۔سو ایک دانا سوچ سکتا ہے کہ احمد بیگ کے مرنے کے بعد جس کی موت پیشگوئی کی ایک جزو تھی۔دوسری جُز والی کا کیا حال ہوا ہو گا گویا وہ جیتا ہی مر گیا ہو گا۔چنانچہ اس کے بزرگوں کی طرف سے دو خط ہمیں بھی پہنچے جو ایک حکیم صاحب باشندۂ لاہور کے ہاتھ سے لکھے ہوئے تھے جن میں انہوں نے اپنے توبہ اور استغفار کا حال لکھا ہے سو ان تمام قرائن کو دیکھ کر ہمیں یقین ہو گیا تھا کہ تاریخ وفات سلطان محمد قائم نہیں رہ سکتی کیونکہ ایسی تاریخیں جو تخویف اور انذار کے نشانوں میں سے ہوتی ہیں ہمیشہ بطور تقدیر معلّق کے ہوتی ہیں اور سلطان محمد اور اس کے اقارب اس لیے مجرم ٹھہر گئے کہ انہوں نے یہ گناہ کیا کہ ان کو ہم نے بار بار بوساطت بعض مخلصوں اور نیز خطوط کے ذریعہ سے بہت کھول کر سُنا دیا تھا کہ یہ پیشگوئی ایک قوم سرکش کے لیے خد ا تعالیٰ کی طرف سے ہے تم ان کے ساتھ مِل کر ویسے ہی مستوجب عذاب مت بنو مگر چونکہ وہ بھی سخت دل اور دنیا پرست تھے اس لیے انہوں نے نہ مانا اور اسی طرح ٹھٹھا اور ہنسی کی اور اپنی بیباکی سے اس رشتہ سے دستکش نہ ہوئے۔مگر احمد بیگ کی وفات کے بعد ان کے دلوں پر سخت رُعب طاری ہوا۔اور انہوں نے ربّانی پیشگوئی کے خوف و غم کو کسی قدر اپنے دلوں پر غالب کر لیا۔اور اگرچہ سخت دل بہت تھے لیکن احمد بیگ کے مرنے نے اُن کی کمر توڑ دی اور اسی وجہ سے ان کی طرف سے عذر اور پشیمانی کے خط بھی پہنچے اور جبکہ وہ اپنے دلوں میں بہت ڈرے اور سخت ہراساں ہوئے پس ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ اپنی سُنّت قدیمہ کے موافق تاریخ عذاب کو کسی اور موقع پر ڈال دے یعنی ان دنوں پر جبکہ وہ لوگ اپنی حالت بیباکی اور تکبرّ اور غفلت کی طرف کامل طور سے رجوع کر لیں کیونکہ عذاب کی میعاد ایک تقدیر معلّق ہوتی ہے جو خوف اور رجوع سے دوسرے وقت پر جا پڑتی ہے جیسا کہ تمام