مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 556 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 556

وعدہ بھی بطور عذاب کے وعدہ کے تھا۔کیونکہ اس کی بنیاد یہ تھی کہ جو دختر احمد بیگ مسمّٰی سلطان محمد سے بیاہی گئی اس کا والد اور اس کے اقارب اور عزیز بہت بے دین تھے اور تکذیبِ حق میں حد سے بڑھے ہوئے تھے اور ایک ان میں سے سخت دہریہ تھا جو اسلام سے مُرتد ہو کر اسلام کے مخالف اشتہار چھپاتا اور خدا تعالیٰ کے پاک دین کی بے ادبیاں کرتا تھا اور دوسرے سب اس کے موافق اور محب تھے۔سو ایسا اتفاق ہوا کہ ایک مرتبہ اُس نے اشتہار چھپایا اور اسلام کی بہت توہین کی اور اس عاجز سے اسلام کی صداقت کے لیے نشان چاہا او ر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات پر ٹھٹھا کیا اور دوسرے اس سے الگ نہیں ہوئے بلکہ اس کے ساتھ رہے اس لیے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ ان کو وہ نشان دکھلاوے جس سے وہ ذلیل ہوں۔پس اُس نے اُس تمام مُلحد گروہ کے حق میں مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ کَذَّبُوْا بِٰایَاتِنَا وَ کَانُوْا بِھَا یَسْتَھْزِئُ وْنَ فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللّٰہُ وَ یَرُدُّھَآ اِلَیْکَ لَا تَبْدِیْلَ لِکَلِمَاتِ اللّٰہِ اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ۔یعنی ان لوگوں نے ہمارے نشانوں کی تکذیب کی اور ان سے ٹھٹھا کیا۔سو خدا اُن کے شر دور کرنے کے لیے تیرے لئے کافی ہو گا اور انہیں یہ نشان دکھلائے گا کہ احمد بیگ کی بڑی لڑکی ایک جگہ بیاہی جائے گی اور خدا اس کو پھر تیری طرف واپس لائے گا۔یعنی آخر وہ تیرے نکاح میں آئے گی۔اور خدا سب روکیں درمیان سے اُٹھا دے گا۔خدا کی باتیں ٹل نہیں سکتیں۔تیرا ربّ ایسا قادر ہے کہ جس کام کا وہ ارادہ کرے اس کام کو وہ اپنے منشاء کے موافق ضرور پورا کرتا ہے۔سو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ اس قوم کے لیے نشان تھا جو بیباکی اور نافرمانی اور ٹھٹھے میں حد سے زیادہ بڑھ گئے تھے اور اس الہام کی تفصیل یعنی فقرہ فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللّٰہُکی شرح دوسرے الہاموں سے یہ معلوم ہوئی تھی کہ خدا تعالیٰ احمد بیگ کو نکاح سے تین سال کے اندر بلکہ بہت قریب موت دے گا اور اس کے داماد کو اڑھائی سال کے اندر روز نکاح سے وفات دے گا اور جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں احمد بیگ میعاد کے اندر یعنی روز نکاح سے چھ ماہ بعد وفات پا گیا اور اس نے اس ڈرانے والے الہام کی کیفیت دیکھ لی جو اس کو سنایا گیا تھا۔ویسا ہی اس کے بے دین اقارب کو اس کے مرنے کا صدمہ کامل طور پر پہنچ گیا، لیکن اس کا داماد جو اڑھائی سال کے اندر فوت نہ ہوا تو اس کی یہی وجہ تھی جو اس عبرت انگیز واقعہ کے بعد جو احمد بیگ اس کے خسر کی