مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 555
نہ کر سکے کہ اس پیشگوئی کا نصف حصہ بڑی صفائی سے پورا ہو گیا۔باقی رہا دوسرا حصہ جو احمد بیگ کے داماد کی وفات ہے یہ اگر میعاد مقررہ میں پورا نہ ہوا بلکہ میعاد کے بعد پورا ہوا تو اس پر وہی لوگ اعتراض کریں گے جن کو خدا تعالیٰ کی ان سنتوں اور قانون سے بے خبری ہے جو اس کی پاک کتاب میں پائی جاتی ہیں۔ہم کئی بار لکھ چکے ہیں جو تخویف اور انذار کی پیشگوئیاں جس قدر ہوتی ہیں جن کے ذریعہ سے ایک بے باک قوم کو سزا دینا منظور ہوتا ہے ان کی تاریخیں اور میعادیں تقدیر مبرم کی طرح نہیں ہوتیں بلکہ تقدیر معلّق کی طرح ہوتی ہیں اور اگر وہ لوگ نزول عذاب سے پہلے توبہ اور استغفار اور رجوع الی الحق سے کسی قدر اپنی شوخیوں اور چالاکیوں اور تکبرّوں کی اصلاح کریں تو وہ عذاب کسی ایسے وقت پر جا پڑتا ہے کہ جب وہ لوگ اپنی پہلی عادات کی طرف پھر رجوع کر لیں۔یہی سنّت اللہ ہے کہ قرآن کریم اور دوسری الٰہی کتابوں سے ثابت ہوتی ہے اور چونکہ یہ سنّت مستمرّہ اور عادتِ قدیمہ حضرت باری جلّ اسمہٗ کی ہے جس کا ذکر اس کی تمام کتابوں میں پایا جاتا ہے اس لیے انذار اور تخویف کے الہامات میں کچھ ضرور نہیں ہوتا کہ شرط کے طور پر اس سُنّت اللہ کاا لہام میں ذکر بھی کیا جائے۔کیونکہ کوئی الہام اس سنّت اللہ کے مخالف ہو ہی نہیں سکتا جو خدا تعالیٰ کی پاک کتابوں میں دائمی طور پر پائی جاتی ہے۔وجہ یہ کہ ہر ایک الہام کے لیے کتاب الٰہی بطور امام اور مہیمن کے ہے اور ضرور ہے کہ الہام اپنے امام کی سنن اور حدود سے تجاوز نہ کرے ورنہ وہ الہامِ الٰہی نہیں ہوسکتا۔اب بعد اس تمہید کے جاننا چاہیے کہ یہ پیشگوئی بھی بطور انذار اور تخویف کے تھی۔ا ور موت کا نوٹ۔اس عادت اللہ سے تو سارا قرآن اور پہلی سماوی کتابیں بھری ہوئی ہیں کہ عذاب کی پیشگوئیوں کی میعاد توبہ اور استغفار سے اور حق کی عظمت کا خوف اپنے دل پر ڈالنے سے ٹلتی رہی ہے۔جیسا کہ یونس نبی کا قصّہ ہی اس پر شاہد ہے۔جن کی قوم کو قطعی طور پر بغیر بیان کسی شرط کے چالیس دن کی میعاد بتلائی گئی تھی، لیکن حضرت آدم سے لے کر ہمارے نبی صلعم تک ایسی کوئی نظیر کسی نبی کے عہد میں نہیں ملے گی اور نہ کسی ربّانی کتاب میں اس کا پتہ ملے گا کہ کسی شخص یا کسی قوم نے عذاب کی خبر سُن کر اور اس کی میعاد سے مطلع ہو کر قبل نزول عذاب توبہ اور خوف الٰہی کی طرف رجوع کیا ہو اور پھر بھی ان پر پتھر برسے ہوں یااو ر کسی عذاب سے وہ ہلاک کئے گئے ہوں اور اگر کسی کی نظر میںکوئی بھی نظیر ہو تو پیش کرے اور یاد رکھے کہ وہ ہرگز کسی ربّانی کتاب سے پیش نہیں کر سکے گا پس ناحق ایک متفق علیہا صداقت سے انکار کر کے اپنے تئیں جہنم کا ایندھن نہ بناویں۔منہ