مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 547 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 547

ہیں وہ ایسا دعویٰ ہے جس کو وہ ثابت نہیں کرسکے۔پس اس صورت میں وہ خود انصافاًو قانوناً اس مطالبہ کے نیچے آگئے کہ وہ اس الزام سے قسم کے ساتھ اپنی بریت ظاہر کریں جو خود ان کے افعال اور ان کے بیان سے شبہ کے طور پر ان کے عاید حال ہوتا ہے پس ان کی بریت اس شبہ سے جس کو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے آپ پیدا کیا اسی میں ہے کہ وہ ایسی قسم جو مجھ مدعی کو مطمئن کرسکتی ہو یعنی میرے منشا کے موافق ہو جلسہ عام میں کھالیں اور یاد رہے کہ درحقیقت ان کے ایسے افعال سے جوان کی خوفناک حالت پر اور ان کے ڈر سے بھرے ہوئے دل پر پندرہ مہینہ تک گواہی دیتے رہے اور ان کے ایسے بیان سے جو رو رو کر اس زمانہ کی نسبت بتلایا جو نور افشاں ماہ ستمبر ۱۸۹۴ء میں چھپ گیا۔یہ امر قطعی طور پر ثابت ہوگیا ہے کہ وہ ضرور ایام پیشگوئی میں ڈرتے رہے پس ان کا یہ دعوٰی کہ وہ عظمت حق کے خوف سے نہیں ڈرے بلکہ قتل کئے جانے سے ڈرے اس دعویٰ کا بار ثبوت قانوناً و انصافاًانہیں کے ذمہ تھا جس سے وہ سبکدوش نہیں ہوسکے لہٰذا ہمارے لئے یہ قانونی حق حاصل ہے کہ ایک قابل اطمینان ثبوت کے لئے ان کو قسم پر مجبور کریں اور ان پر قانوناً واجب ہے کہ وہ اس طریق فیصلہ سے گریز نہ کریں جس طریق سے پورے طور پر ان کے سر پر سے ہمارا شبہ اور الزام اٹھ جائے۔یہی وہ طریق ہے جس کو قانون و انصاف چاہتا ہے۔اب تم خواہ کسی وکیل یا بیرسٹر یا جج کو بھی پوچھ کر دیکھ لو ہاں اگر آتھم صاحب اب حسب تجویز قرار دادہ ہماری کے قسم کھا لیں تو بلا شبہ ان کی صفائی ہوجائے گی اور اگر قسم کے ضرر سے بچ گئے تو ثابت ہو جائے گا کہ وہ واقعی طور پر اسلامی پیشگوئی سے ذرہ نہیں ڈرے بلکہ وہ اس لئے خائف رہے کہ ان کو یہ پرانا تجربہ تھا کہ یہ عاجز خونی آدمی ہے ہمیشہ ناحق کے خون کرتا رہا ہے لہٰذا اب ان کا بھی ضرور خون کر دے گا۔قولہ۔اس قسم کی تحدّی اور پھر خفی طریقوں سے اس کا ثبوت۔اقول۔عقلمند کے لئے یہ خفی طریقہ نہیں جس حالت میں پندرہ مہینہ تک آتھم صاحب کے خوف کے قصے اور ان کی سراسیمگی کی حالت دنیا میں مشہور ہوگئی پھر اب تک وہ زبان سے بھی رو رو کر اقرار کرتے ہیں کہ میں ضرور ڈرتا رہا مگر تلواروں کا خوف تھا گویا کسی راجہ یا نواب یا کسی ڈاکو نے