مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 546
صرف قسم کھا لینا اور روپے لینا باقی رہا ہے۔اقول۔یہ انکار برنگ شہادت انکار نہیں بلکہ ایسے طور کا انکار ہے جیسے بدمعاملہ مدعا علیہم کیا کرتے ہیں پس ایسا انکار اس دعوے کو توڑ نہیں سکتا جو خود آتھم صاحب کی حالی شہادت سے ثابت ہے کیا اس میں کچھ شک ہے کہ آتھم صاحب نے اپنی سراسیمگی اور دن رات کی پریشانی اور گر یہ و بکا اور ہر وقت مغموم اور اندوہناک رہنے سے دکھا دیا کہ وہ ضرور اس پیشگوئی سے متاثر اور خائف رہے ہیں بلکہ آتھم صاحب نے خود رو رو کر مجلسوں میں اس بات کا اقرار کیا ہے کہ وہ اس پیشگوئی کے بعد ضرور موت سے ڈرتے رہے۔چنانچہ ابھی ستمبر ۱۸۹۴ء کے مہینہ میں وہ اقرار نور افشاں میں چھپ بھی گیا ہے جس کی اب وہ یہ تاویل کرتے ہیں کہ پیشگوئی سے ہمیں خوف نہیں تھا اور نہ اسلامی عظمت کا اثر تھا بلکہ یہ خوف تھا کہ کوئی مجھ کو مار نہ دیوے لیکن انہوں نے خوف کا صریح اقرار کر کے پھر اس کا کچھ ثبوت نہیں دیا کہ ایسا خوف جس نے ان کو حیوانوں کی طرح بنا رکھا تھا کیا سارا مدار اس کا صرف اس وہم پر تھا کہ کوئی مجھ کو قتل نہ کر دیوے پس جبکہ ہماری پیشگوئی کے بعد یہ سارا خوف تھا جس کے وہ خود اقراری ہیں جس کو یاد کر کے اب بھی وہ زار زار روتے ہیں تو ہمارا یہ حق ہے کہ ہم ان کی اس تاویل کو لَا نَسْلِم کی مَدمیں رکھ کر ان سے وہ ثبوت مانگیں جو موجب تسلی ہو کیونکہ جب کہ وہ نفس خوف کے خود اقراری ہیں تو ہمیں انصافاًو قانوناً حق پہنچتا ہے کہ ان سے وہ قسم غلیظ لیں جس کے ذریعہ سے وہ حق بیان کر سکیں اور بغیر قسم کے ان کے بیانات لغو ہیں کیونکہ وہ باتیں بحیثیت مدعا علیہ کے ہیں۔قولہ۔آتھم صاحب کے ذمہ اس طرح پر قسم کھانا انصافاًضروری نہیں۔اقول۔جبکہ آتھم صاحب کے وہ حالات جو پیشگوئی کی میعاد میں ان پر وارد ہوئے جنہوں نے ان کو مارے خوف کے دیوانہ سا بنا دیا تھا بلند آواز سے پکار رہے ہیں کہ ایک ڈرانے والا اثر ضرور ان کے دل پر وارد ہوا تھا اور پھر بعد اس کے ان کی زبان کا اقرار بھی نور افشاں میں چھپ گیا کہ وہ ضرور اس عرصہ میں خوف اور ڈر کی حالت میں رہے اور جو ڈر کے وجوہ انہوں نے بیان کئے