مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 544 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 544

مجموعه اشتہارات ۵۴۴ جلد اول شوخیوں اور بے باکیوں کی کسی قدر رجوع کے ساتھ اصلاح کرلے تو خدا تعالیٰ وعدہ عذاب دنیوی میں تاخیر ڈال دیتا ہے یہی تعلیم سارے قرآن میں موجود ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ کفار کا قول ذکر کر کے فرماتا ہے ۔ رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ لے ۔۔۔ اور پھر جواب میں فرماتا ہے اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِيْلًا إِنَّكُمْ عَابِدُونَ کے یعنی کافر عذاب کے وقت کہیں گے کہ اے خدا ہم سے عذاب دفع کر کہ ہم ایمان لائے اور ہم تھوڑ اسا یا تھوڑی مدت تک عذاب دور کر دیں گے مگر تم اے کا فرو پھر کفر کی طرف عود کرو گے۔ پس ان آیات سے اور ایسا ہی ان آیتوں سے جن میں قریب الغرق کشتیوں کا ذکر ہے صریح منطوق قرآنی سے ثابت ہوتا ہے کہ عذاب دنیوی ایسے کافروں کے سر پر سے ٹل جاتا ہے جو خوف کے دنوں اور وقتوں میں حق اور توحید کی طرف رجوع کریں گوامن پا کر پھر بے ایمان ہو جائیں ۔ بھلا اگر ہمارا یہ بیان صحیح نہیں ہے تو اپنے معلم شیخ بٹالوی کو کہو کہ قسم کھا کر بذریعہ تحریر یہ ظاہر کرے کہ ہمارا یہ بیان غلط ہے کیونکہ تم تو جاہل ہو تم ہرگز نہیں سمجھو گے اور وہ سمجھ لے گا اور یا درکھو کہ وہ ہر گز فتم نہیں کھائے گا کیونکہ ہمارے بیان میں سچائی کا نور دیکھے گا اور قرآن کے مطابق پائے گا پس اب بتلا کہ کیا دجال تیرا ہی نام ثابت ہوا یا کسی اور کا حق سے لڑتا رہ آخراے مردار دیکھے گا کہ تیرا کیا انجام ہوگا اے عدو اللہ تو مجھ سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے لڑ رہا ہے بخدا مجھے اسی وقت ۲۹ ستمبر ۱۸۹۴ء کو تیری نسبت الہام ہوا ہے إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ اور ہم نے اس طرح پر آتھم کا رجوع بحق ہونا بے ثبوت نہیں کہا۔ کیا تو سوچتا نہیں کہ اگر وہ سچا ہے تو کیوں قسم نہیں کھاتا۔ اگر یہی سچ ہے تو وہ سچی قسم کھانے سے کس پہاڑ کے نیچے آ کر دب جائے گا اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ آتھم صاحب کا صرف بحیثیت مدعا علیہ انکار کرتے رہنا کچھ بھی چیز نہیں جھوٹ بولنا نصاری کی سرشت میں داخل ہے اگر بندہ پرست لوگ جھوٹ نہ بولیں تو اور کون بولے مگر ہمارا تو یہ مطلب اور مدعا ہے کہ بحیثیت ایک گواہ کے کھڑا ہو کر مجمع عام میں اس مضمون کی قسم کھا جائیں جس کی ہم بار بار تعلیم کرتے ہیں مگر کیا اس نے الدخان : ۱۳ ۲ الدخان: ۱۶