مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 538
قادر اور سچا خدا ہے جس سے بدنصیب عیسائی منکر ہیں اور اپنے جیسے انسان کو خدا بنا بیٹھے ہیں تبھی تو بزدل ہیں اور ایک سال کے لئے بھی اس پر بھروسہ نہیں آسکتا اور سچ ہے باطل معبودوں پر بھروسہ کیونکر ہوسکے اور نور فطرت کیونکر گواہی دیوے کہ ایسا عاجز معبود ایک سال تک بچا سکے گا بلکہ ہم نے تو اشتہار ۲۰؍ ستمبر ۱۸۹۴ء میں یہ بھی لکھ دیا ہے کہ اگر آتھم صاحب اپنے مصنوعی خدا کو ایسا ہی کمزور اور گیاگذرا یقین کر بیٹھے ہیں تو اتنا کہہ دیں کہ وہ ابن اللہ کے نام کا خدا ایک سال تک مجھے بچا نہیں سکتا تو ہم اس اقرار کے بعد تین دن ہی منظور کر لیں گے مگر وہ کسی طرح میدان میں نہیں آویں گے کیونکہ جھوٹے کو اپنے جھوٹ کا دھڑکا شروع ہوجاتا ہے اور سچے کے مقابل پر آنا اس کو ایک موت کا مقابلہ معلوم ہوتا ہے۔( ۶) چھٹا اعتراض۔یہ ہے کہ کیا خدا آتھم کے منافقانہ رجوع سے اپنے زبردست وعدہ کو ٹال سکتا تھا حالانکہ وہ خود ہی فرماتا ہے۔۔۱؎ یعنی جب وعدہ پہنچ گیا تو کسی جان کو مہلت نہیں دی جاتی۔الجواب۔آپ سن چکے ہیں کہ وہ وعدہ خدا تعالیٰ کے الہام میں قطعی وعدہ نہ تھا اور نہ فیصلہ ناطق تھا بلکہ مشروط بشرط تھا اور بصورت پابندی شرط کے وہ شرط قرار دادہ بھی وعدہ میں داخل تھی۔سو آتھم نے خوف کے دنوں میں بے شک حق کی طرف رجوع کیا اور وہ رجوع منافقانہ نہیں تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق موت میں تاخیر ڈال دی۔افسوس کہ نادان لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ انسان کی فطرت میں یہ بھی ایک خاصہ ہے کہ وہ باوجود شقی ازلی ہونے کے شدت خوف اور ہول کے وقت میں خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کر لیتا ہے لیکن اپنی شقاوت کی وجہ سے پھر بلا سے رہائی پاکر اس کا دل سخت ہوجاتا ہے جیسے فرعون کا دل ہریک رہائی کے وقت سخت ہوتا رہا سو ایسے رجوع کا نام خدا تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں منافقانہ رجوع نہیں رکھا کیونکہ منافق کے دل میں کوئی سچا خوف نازل نہیں ہوتا اور اس کے دل پر حق کا رعب اثر نہیں ڈالتا لیکن اس شقی کے دل میں راہ راست کی ۱؎ المنافقون:۱۲