مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 537 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 537

ہے اور دونوں باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور موجب التواء عذاب شق دوم ہے نہ شق اوّل۔(۵) پانچواں اعتراض۔یہ ہے کہ ایک سال کی میعاد کی کیا ضرورت ہے خدا ایک دن میں جھوٹے کو مار سکتا ہے۔الجواب۔ہاں بے شک خدائے قادر ذوالجلال ایک دن میں کیا بلکہ ایک طرفۃ العین میں مار سکتا ہے مگر جب اس نے الہامی تفہیم سے اپنا ارادہ ظاہر کر دیا تو اس کی پیروی کرنا لازم ہے کیونکہ وہ حاکم ہے مثلاً وہ اپنی قدرت کے رو سے ایک دن میں انسان کے نطفہ کو بچہ بنا سکتا ہے لیکن جب اس نے اپنے قانون قدرت کے ذریعہ سے ہمیں سمجھا دیا کہ یہی اس کا ارادہ ہے کہ نو مہینہ میں بچہ بناوے تو بعد اس کے نہایت چالاکی اور گستاخی ہوگی کہ ہم ایسا اعتراض کریں کیا ہمیں خدا تعالیٰ کے ارادوں اور حکموں کی پیروی کرنا لازم ہے یا یہ کہ اپنے ارادوں کا اس کو پیرو بناویں اس کی قدرت تو دونوں پہلو رکھتی ہے چاہے تو ایک طرفۃ العین میں کسی کو ہلاک کردے اور چاہے تو کسی اور مدت تک مثلاً ایک سال تک کسی پر موت وارد کرے اور پھر جب اسی کی تفہیم سے معلوم ہوا کہ اپنی قدرت کے وارد کرنے میں اس نے ایک سال کی مدت کو ارادہ کیا ہے تو یہ کہنا سخت بے جا ہے کہ یہ ارادہ اس کی قدرت کے مخالف ہے صدہا کام ہیں جو وہ ایک دم میں کرسکتا ہے مگر نہیں کرتا دنیا کو بھی چھ دن میں بنایا اور کھیتوں کو بھی اُس مدت تک پکاتا ہے جو اُس نے مقرر کر رکھی ہے اور ہر اک شے کے لئے اس کے قانون قدرت میں اَجَل مقرر ہے پس قانون الہام بھی اسی قانون قدرت کے مشابہ صفات باری کو ظاہر کرتا ہے لیکن یہ سیاپا ایسے لوگ کیوں کر رہے ہیں جو حضرت مسیح کو قادر مطلق خیال کرتے ہیں کیا ان کا وہ مصنوعی خدا ایک سال تک آتھم صاحب کو بچا نہیں سکتا حالانکہ ان کی عمر بھی کچھ ایسی بڑی نہیں ہے بلکہ میری عمر سے صرف چند سال ہی زیادہ ہیں پھر اس مصنوعی خدا پر کون سی ناتوانی طاری ہو جائے گی کہ ایک سال تک بھی ان کو بچا نہیں سکے گا ایسے خدا پر نجات کا بھروسہ رکھنا بھی سخت خطرناک ہے جو ایک سال کی حفاظت سے بھی عاجز ہے کیا ہم نے عہد نہیں کیا کہ ہمارا خدا اس سال میں ضرور ہمیں مرنے سے بچائے گا اور آتھم صاحب کو اس جہان سے رخصت کر دے گا کیونکہ وہی