مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 525 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 525

صرف مسیح نے ان پر فضل کیا۔تو اب اس معرکہ کی لڑائی میں جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں ضرور مسیح ان پر فضل کرے گا۔اور اگر یہ بات سچی ہے کہ انہوں نے درحقیقت خوف کے دنوں میں اپنے دل میں اسلام کی طرف رجوع کر لیا تھا تو اب منکر انہ قسم کھانے کے بعد ضرور بغیر تخلّف اور بغیر استثناء کسی شرط کے ان پر موت آئے گی۔غرض یہ فیصلہ تو نہایت ضرور ہے۔اس سے وہ کہاں اور کیونکر گریز کرسکتے ہیں ۱ ؎ اور اگر اب بھی باوجود اس دوہزارروپیہکے جو نقد بلا تکلیف حلوائے بے دُود کی طرح ان کو ملتا ہے قسم کھانے سے انکار کریں تو سارا جہان گواہ رہے کہ ہم کو فتح کامل ہوئی اور عیسائی کھلے طور پر شکست پا گئے اور ہمارا تو یہ حق تھا کہ اوّل دفعہ کے اشتہار پر ہی کفایت کرتے کیونکہ جب ہزار روپیہ نقد دینے سے وہ قسم نہ کھا سکے تو صریح ان پر حجت پوری ہو گئی مگر ہم نے نہایت موٹی عقل کے لوگوں اور حاسدوں اور متعصبوں کی حالت پر رحم کر کے مکرر یہدوہزارروپیہ کا اشتہار ۱؎ نوٹ۔مسٹر عبد اللہ آتھم نے بہ ایّام انعقاد شرائط مباحثہ اپنے ایک تحریری عہد سے جو ہمارے پاس موجود ہے۔ہمیں اطلاع دی تھی کہ وہ کسی نشان کے دیکھنے سے ضرور اپنے عقائد کی اصلاح کر لیں گے یعنی دین اسلام قبول کر لیں گے۔سو یہ خط بھی ایک گواہ ان کی اندرونی حالت کا ہے کہ وہ سچائی کے قبول کرنے کے لئے پہلے ہی سے مستعد تھے۔پھر جب یہ الہام اپنے پُر رعب مضمون میں انہیں کے بارہ میں ہوا اور انہیں پر پڑا۔اور الہام بھی موت کا الہام جو بالطبع ہر یک پر گراں گزرتی ہے اور ہریک اپنی چند روزہ زندگی کو عزیز رکھتا ہے۔اور یہ اپنے اسلام لانے کا وعدہ انہوں نے اس وقت کیا تھا کہ جب انہیں اس بات کا خیال بھی نہیں تھا کہ وہ نشان مطلوب انہیں کی موت کے بارے میں ہوگا۔بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کریں۔اور وہ الہام نہایت شد و مد اور تاکید سے اور ایسے پرُ زور الفاظ میں سنایا گیا جس سے بڑھ کر ممکن نہیں۔تو کیا یہ نہایت قریب قیاس نہیں کہ ایسے مستعد اور قابل انفعال دل پر ایسی پرُ زور تقریر نے بہت برُ ا اثر کیا ہوگا۔اور انہوں نے ایسے منذر الہام کو سن کر ضرور متاثر ہوکر اندر ہی اندر اپنی اصلاح کی ہوگی جیسے ان کے دوسرے مضطربانہ حالات بھی اس پر شاہد ہیں اور نیز اس خط سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ وہ ہرگز تثلیث اور مسیح کے خون اور کفارہ پر مطمئن نہیں تھے۔کیونکہ ایک ایسا شخص جو اپنے عقائد پر سچے دل سے مطمئن ہو وہ ہرگز یہ بات زبان پر نہیں لاسکتا کہ بعض نشانوں کے دیکھنے سے ان عقائد کو ترک کر دوں گا۔اصل خط ان کے ہاتھ سے لکھا ہوا ہمارے پاس موجود ہے۔جو صاحب شک رکھتے ہیں دیکھ لیں۔منہ