مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 524
قسم کھا کر کہہ دیں کہ میں نے پیشگوئی کی مدت کے اندر عظمت اسلامی کو اپنے دل پر جگہ ہونے نہیں دی اور برابر دشمن اسلام رہا۔اور حضرت عیسیٰ کی ابنیت اور الوہیت اور کفارہ پر مضبوط ایمان رکھا تو اسی وقت نقد دو ہزار روپیہ ان کو بہ شرائط قرار دادہ اشتہار ۹ ؍ستمبر ۱۸۹۴ء بلا توقف دیا جائے گا اور اگر ہم بعد قسم دو ہزار روپیہ دینے میں ایک منٹ کی بھی توقف کریں تو وہ تمام لعنتیں جو نادان مخالف کر رہے ہیں ہم پر وارد ہوں گی اور ہم بلاشبہ جھوٹے ٹھہریں گے اور قطعاً اس لائق ٹھہریں گے کہ ہمیں سزائے موت دی جائے اور ہماری کتابیں جلا دی جائیں اور ملعون وغیرہ ہمارے نام رکھے جائیں اور اگر اب بھی آتھم صاحب باوجود اس قدر انعام کثیر کے قسم کھانے سے منہ پھیر لیں تو تمام دشمن و دوست یاد رکھیں کہ انہوں نے محض عیسائیوں سے خوف کھا کر حق کو چھپایا ہے اور اسلام غالب اور فتح یاب ہے۔۱؎ پہلے تو ان کے حق کی طرف رجوع کرنے کا صرف ایک گواہ تھا یعنی ان کی وہ خوف زدہ صورت جس میں انہوں نے پندرہ مہینے بسر کئے اور دوسرا گواہ یہ کھڑا ہوا کہ انہوں نے باوجود ہزار روپیہ نقد ملنے کے قسم کھانے سے انکار کیا ہے اب تیسرا گواہ یہ دو ہزار روپیہ کا اشتہار ہے اگر اب بھی قسم کھانے سے انکار کریں تو رجوع ثابت۔کیا کوئی سچا موت سے ڈر کر انکار کر سکتا ہے کیا ہر ایک جان خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں نہیں جبکہ عیسائیوں کا مقولہ ہے کہ ان کی جان مسیح نے بچائی اور ہم کہتے ہیں کہ نہیں ہرگز نہیںہرگز نہیں۔بلکہ اسلامی عظمت کو اپنے دل میں جگہ دینے سے الہام کی شرط کے موافق جان بچ گئی تو اب اس جھگڑے کا فیصلہ بجز ان کی قسم کے اور کیونکر ہو۔اگر یہی بات سچی ہے کہ ۱؎ نوٹ۔الہامی پیشگوئی نہ صرف آتھم صاحب کے متعلق تھی بلکہ اس تمام مخالف فریق کے متعلق تھی جو اس جنگ مقدس کیلئے اپنے اپنے طور پر خدمتوں کیلئے مقرر تھے آتھم صاحب کے ہاتھ میں تو وہ نابکار اور شکستہ تلوار پکڑائی گئی تھی جو سچائی کا ایک بال بھی نہیں کاٹ سکتی تھی اور باقی فریق میں سے کوئی بطور معاون اور کوئی مشیر جنگ اور کوئی سرگروہ تھا پس آخر اس جنگ کا یہ نتیجہ ہوا کہ کوئی ان سے پندرہ مہینے کے اندر مارا گیا کوئی زخمی ہوا اور کوئی لعنت کی ہزار کڑی والی زنجیر میں گرفتار ہوکر ہمیشہ کی ذلت کے قید خانے میں ڈالا گیا اور آتھم صاحب خوف کھا کر بھاگ گئے اور اسلامی عظمت کے جھنڈے کے نیچے پناہ لی۔منہ