مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 519 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 519

تھے اور خدا تعالیٰ کو منظور تھا کہ عیسائیوں کو کچھ عرصہ تک جھوٹی خوشی پہنچاوے اور پھر وہ فیصلہ کرے جس سے درحقیقت اندھے آنکھیں پائیں گے اور بہروں کے کان کھلیں گے اور مردے زندے ہوں گے اور بخیل اور حاسد سمجھیں گے کہ انہوں نے کیسی غلطی کی۔امرت سر کے عیسائی اپنے اشتہار میں لکھتے ہیں کہ خداوند مسیح نے مسٹر عبد اللہ آتھم کو بچا لیا۔سو اب اگر وہ اپنے تئیں سچے خیال کرتے ہیں تو ان پر واجب ہے کہ مقابلہ سے ہمت نہ ہاریں کیونکہ اگر وہ مصنوعی خدا اُن کا درحقیقت بچانے والا ہی ہے تو ضرور اس آخری فیصلہ پر بچالے گا کیونکہ اگر موت وارد ہوگئی تو سب عیسائیوں کی روسیاہی ہے چاہیے کہ اپنے اس مصنوعی خداوند پر توکل کر کے اپنی پیٹھ نہ دکھلاویں۔لیکن یاد رکھیں کہ ہرگز ان کو فتح نہیں ہوگی جو شخص آپ فوت ہوگیا ہے وہ دوسرے کو فوت ہونے سے کب روک سکتا ہے۔روکنے والا ایک ہے جو حیّ قـیّوم ہے جس کے ہم پر ستار ہیں۔یہ تو ہم نے مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کا حال بیان کیا۔جو فریق مخالف سے بحث کے لئے منتخب کئے گئے تھے۔لیکن اس جگہ سوال یہ ہے کہ اس فریق مخالف میں سے جو لوگ بطور معاون یا حامی یا سرگروہ تھے ان کا کیا حال ہوا انہوں نے بھی کچھ ہاویہ کا مزا چکھا ہے یا نہیں تو جواب یہ ہے کہ ضرور چکھا اور میعاد کے اندر ہر ایک نے کامل طور سے چکھا۔چنانچہ پادری رائٹ صاحب جو بطور سرگروہ تھے۔میعاد کے اندر عین جوانی میں اس دنیا سے کوچ کر گئے اور مسٹرعبداللہ آتھم صاحب اپنی مصیبت میں رہے غالباً وہ ان کے جنازہ پر بھی حاضر نہیں ہوسکے۔ڈاکٹر مارٹن کلارک کے دل کو ان کی بے وقت موت کا ایسا صدمہ پہنچا کہ بس مجروح کردیا۔اور فریق مخالف کے گروہ میں سے جو بطور معاونوں کے تھے ان میں سے ایک پادری ٹامس ہاول تھا جس نے بار بار محرف کتابوں کو پڑھ کر اپنا حلق پھاڑا اور لوگوں کا مغز کھایا۔وہ مباحثہ کے بعد ہی ایسا پکڑا گیا اور ایسی سخت بیماری میں مبتلا ہوا کہ مر مر کے بچا اور ایک معاون عبد اللہ پادری تھا جو چپکے چپکے قرآن شریف کی آیتیں دکھاتااور عبرانی کے ٹوٹے پھوٹے حرف پڑھتا تھا۔اس کو بھی میعاد کے اندر سخت بیماری نے موت تک پہنچایا۔اور معلوم نہیں کہ بچایا گزر گیا۔باقی رہا پادری عمادالدین اس کے گلے میں ہزار لعنت کی ذلت کا لمبا رسہ پڑا جو نور الحق کے جواب سے عاجز ہونے