مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 519
مجموعه اشتہارات ۵۱۹ جلد اول تھے اور خدا تعالیٰ کو منظور تھا کہ عیسائیوں کو کچھ عرصہ تک جھوٹی خوشی پہنچاوے اور پھر وہ فیصلہ کرے جس سے در حقیقت اندھے آنکھیں پائیں گے اور بہروں کے کان کھلیں گے اور مردے زندے ہوں گے اور بخیل اور حاسد سمجھیں گے کہ انہوں نے کیسی غلطی کی ۔ امرت سر کے عیسائی اپنے اشتہار میں لکھتے ہیں کہ خداوند مسیح نے مسٹر عبد اللہ آتھم کو بچالیا۔ سواب اگر وہ اپنے تئیں سچے خیال کرتے ہیں تو ان پر واجب ہے کہ مقابلہ سے ہمت نہ سے ہمت نہ ہاریں کیونکہ اگر وہ مصنوعی خدا اُن کا در حقیقت بچانے والا ہی ہے تو ضرور اس آخری فیصلہ پر بچالے گا کیونکہ اگر موت وارد ہوگئی تو سب عیسائیوں کی روسیاہی ہے چاہیے کہ اپنے اس مصنوعی خداوند پر توکل کر کے اپنی پیٹھ نہ دکھلاویں۔ لیکن یا درکھیں کہ ہرگز ان کو فتح نہیں ہوگی جو شخص آپ فوت ہو گیا ہے وہ دوسرے کو فوت ہونے سے کب روک سکتا ہے۔ روکنے والا ایک ہے جو حتی قیوم ہے جس کے ہم پرستار ہیں ۔ یہ تو ہم نے مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کا حال بیان کیا۔ جو فریق مخالف سے بحث کے لئے منتخب کئے گئے تھے۔ لیکن اس جگہ سوال یہ ہے کہ اس فریق مخالف میں سے جو لوگ بطور معاون یا حامی یا سرگروہ تھے ان کا کیا حال ہوا انہوں نے بھی کچھ ہاویہ کا مزا چکھا ہے یا نہیں تو جواب یہ ہے کہ ضرور چکھا اور میعاد کے اندر ہر ایک نے کامل طور سے چکھا۔ چنانچہ پادری رائٹ صاحب جو بطور سر گروہ تھے۔ میعاد کے اندر عین جوانی میں اس دنیا سے کوچ کر گئے اور مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب اپنی مصیبت میں رہے غالباً وہ ان کے جنازہ پر بھی حاضر نہیں ہو سکے۔ ڈاکٹر مارٹن کلارک کے دل کو ان کی بے وقت موت کا ایسا صدمہ پہنچا کہ بس مجروح کر دیا۔ اور فریق مخالف کے گروہ میں سے جو بطور معاونوں کے تھے ان میں سے ایک پادری ٹامس ہاول تھا جس نے بار بار مصرف کتابوں کو پڑھ کر اپنا حلق پھاڑا اور لوگوں کا مغز کھایا۔ وہ مباحثہ کے بعد ہی ایسا پکڑا گیا اور ایسی سخت بیماری میں مبتلا ہوا کہ مر مر کے بچا اور ایک معاون عبداللہ پادری تھا جو چپکے چپکے قرآن شریف کی آیتیں دکھاتا اور عبرانی کے ٹوٹے پھوٹے حرف پڑھتا تھا۔ اس کو بھی میعاد کے اندر سخت بیماری نے موت تک پہنچایا۔ اور معلوم نہیں کہ بچا یا گزر گیا ۔ باقی رہا پادری عمادالدین اس کے گلے میں ہزار لعنت کی ذلت کا لمبارسہ پڑا جو نورالحق کے جواب سے عاجز ہونے ****