مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 512
مجموعه اشتہارات ۵۱۲ جلد اول پولیس کی پناہ لیتا اور پھر لدھا نہ میں کسی نے اس پر کوئی حملہ نہیں کیا تھا تا وہ فیروز پور کی طرف بھاگتا۔ پس اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ اسلامی ہیبت کی وجہ سے اس شخص کی طرح ہو گیا جو قطرب کی بیماری میں مبتلا ہو اور حقانی عظمت نے اس کے دماغ پر بہت کچھ کام کیا جس کی وہ برداشت نہ کر سکا اور خدا تعالیٰ نے اس کو اس غم میں ایک سودائی کی طرح پایا پس اُس نے اپنے الہامی وعدوں کے موافق اس وقت تک اس کو تاخیر دی جب تک وہ اپنی بے باکی کی طرف رجوع کر کے بدزبانی اور تو ہین اور گستاخی کی طرف میل کرے اور شوخی اور بے باکی کے کاموں کی طرف قدم آگے رکھ کر اپنے لئے ہلاکت کے اسباب پیدا کرے اور خدا تعالیٰ کی غیرت کا محرک ہو اور اگر کوئی انکار کرے کہ ایسا نہیں اور وہ اسلامی عظمت سے نہیں ڈرا تو اس پر واجب ہوگا کہ اس ثبوت کے لئے مسٹر عبداللہ آتھم کو اس اقرار اور حلف کے لئے آمادہ کرے جس سے ایک ہزار روپیہ بھی اس کو ملے گا ورنہ ایسے شخص کا خرور نام بجز نادان متعصب کے اور کیا رکھ سکتے ہیں ۔ کیا یہ بات سچائی کے کھولنے کے لئے کافی نہیں کہ ہم نے صرف عبد اللہ آتھم کے حالات پیش نہیں کئے مگر ہزار روپیہ کا اشتہار بھی دے دیا اور یاد رکھو کہ وہ اس اشتہار کی طرف رخ نہیں کرے گا کیونکہ کا ذب ہے اور اپنے دل میں خوب جانتا ہے کہ وہ اس خوف سے مرنے تک پہنچ چکا تھا اور یادر ہے کہ مسٹر عبد اللہ آتھم میں کامل عذاب کی بنیادی اینٹ رکھ دی گئی ہے اور وہ عنقریب بعض تحریکات سے ظہور میں آجائے گی ۔ خدا تعالیٰ کے تمام کام اعتدال اور رحم سے ہیں اور کینہ ور انسان کی طرح خواہ نخواہ جلد باز نہیں اور اس کی تلوار ڈرنے والے دل پر نہیں چلتی بلکہ سخت اور بے باک پر اور وہ اپنے لفظ لفظ کا پاس کرتا ہے۔ پس جس حالت میں الہامی عبارت میں مدعا یہ تھا کہ حق کی طرف کسی قدر جھکنے کی حالت میں موت وارد نہیں ہو سکتی بلکہ موت اسی حالت میں ہوگی کہ جب کہ بے باکی اور شوخی میں زیادتی کرے تو پھر کیونکر ممکن تھا کہ مسٹر عبد اللہ آتھم پر ایسے دنوں میں موت آجاتی جبکہ اس نے اپنے مضطر بانہ افعال سے ایک جہان کو دکھا دیا کہ عظمت اسلام اس کے دل پر سخت اثر کر رہی ہے اس بات میں کچھ بھی شک نہیں کہ جس دل پر اسلامی پیشگوئی کی عظمت بہت ہی غالب ہو گئی گو اس دل نے اپنے نفسانی تعلقات کی وجہ سے اپنے مذہب کو