مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 499
نہیں سنا گیا کہ کسی عیسائی پادری نے دین کے لئے تلوار بھی اٹھائی ہو۔پھر تلوار کی تدبیریں کرنا قرآن کریم کو چھوڑنا ہے بلکہ صاف بے راہی اور الٰہی ہدایت سے سرکشی ہے۔جن میں روحانیت نہیں وہی ایسی تدابیریں کیا کرتے ہیں جو اسلام کا بہانہ کر کے اپنی نفسانی اغراض کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔خدا تعالیٰ ان کو سمجھ بخشے۔افغانی مزاج کے آدمی اس تعلیم کو برُا مانیں گے مگرہم کو اظہار حق سے غرض ہے نہ ان کے خوش کرنے سے اور نہایت مضر اعتقاد جس سے اسلام کی روحانیت کو بہت ضرر پہنچ رہا ہے یہ ہے کہ یہ تمام مولوی ایک ایسے مہدی کے منتظر ہیں جو تمام دنیا کو خون میں غرق کر دے اور خروج کرتے ہی قتل کرنا شروع کر دے۔اور یہی علامتیں اپنے فرضی مسیح کی رکھی ہوئی ہیں کہ وہ آسمان سے اترتے ہی تمام کافروں کو قتل کر دے گا اور وہی بچے گا جو مسلمان ہو جائے۔ایسے خیالات کے آدمی کسی قوم کے سچے خیر خواہ نہیں بن سکتے بلکہ ان کے ساتھ اکیلے سفر کرنا بھی خوف کی جگہ ہے۔شاید کسی وقت کافر سمجھ کر قتل نہ کر دیںاور اپنے اندر کے کفر سے بے خبر ہیں۔یاد رکھنا چاہیے کہ ایسے بیہودہ مسائل کو اسلام کی جُزو قرار دینا اورنعوذ باللہ قرآنی تعلیم سمجھنا اسلام سے ہنسی کرنا ہے اور مخالفوں کو ٹھٹھے کا موقعہ دینا ہے۔کوئی عقل اس بات کو تجویز نہیں کر سکتی کہ کوئی شخص آتے ہی بغیر اتمام حجت کے لوگوں کوقتل کرنا شروع کر دے۔یا جس گورنمنٹ کے تحت میں زندگی بسر کرے اسی کی تباہی کی گھات میں لگا رہے۔معلوم ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کی روحیں بکلّی مسخ ہو چکی ہیں اور انسانی ہمدردی کی خصلتیں بتمامہا ان کے اندر سے مسلوب ہوگئی ہیں یا خالقِ حقیقی نے پیدا ہی نہیں کیں۔خدا تعالیٰ ہر ایک بلا سے محفوظ رکھے۔نامعلوم کہ ہمارے اس بیان سے وہ لوگ کس قدر جلیں گے اور کیسے منہ مروڑ مروڑ کر کافر کہیں گے مگر ہمیں ان کی اس تکفیر کی کچھ پرواہ نہیں۔ہر ایک شخص کا معاملہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ہمیں قرآن شریف کی کسی آیت میں یہ تعلیم نظر نہیں آتی کہ بے اتمام حجت مخالفوں کو قتل کرنا شروع کر دیا جاوے۔ہمارے سید و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ برس تک کفاّر کے جور و جفا پر صبر کیا۔بہت سے دکھ دیئے گئے دم نہ مارا۔بہت سے اصحاب اور عزیز قتل کئے گئے ایک ذرا مقابلہ نہیں کیا اور دکھوں سے پیسے گئے مگر سوائے صبر کے کچھ نہیں کیا۔آخر جب کفار کے ظلم حد سے بڑھ