مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 494
کا نہیں جانتا پر خدا نے اسے دکھلا دیا کہ یہ بات الٹ کر اسی پر پڑی۔یہ وہی الہام ہے جو کہا گیا تھا کہ مَیں اُسی کو ذلیل کروں گا جو تیری ذ ّلت کے درپے ہو گا۔سبحان اللہ کیسے وہ قادر اور غریبوں کا حامی ہے۔پھر لوگ ڈرتے نہیں کیا یہ خدا تعالیٰ کا نشان نہیں کہ وہی شخص جس کی نسبت کہا گیا تھا کہ جاہل ہے اور ایک صیغہ تک اس کو معلوم نہیں وہ ان تمام مکفرّوں کو جو اپنا نام مولوی رکھتے ہیں بلند آواز سے کہتا ہے کہ میری تفسیر کے مقابل پر تفسیر بناؤ تو ہزار روپے انعام لواور نور الحق کے مقابل پر بناؤ تو پانچ ہزار روپیہ پہلے رکھا لو اور کوئی مولوی دم نہیں مارتا۔کیا یہی مولو ّیت ہے جس کے بھروسہ سے مجھے کافر ٹھہرایا تھا۔اَیُّہَا الشَّیْخ اب وہ الہام پورا ہوا یا کچھ کسر ہے۔ایک دنیا جانتی ہے کہ مَیں نے اسی فیصلہ کی غرض سے اوراسی نیت سے کہ تا شیخ بطالوی کی مولو ّیت اور تمام کفر کے فتوے لکھنے والوں کی اصلیت لوگوں پر کھل جائے۔کتاب کرامات الصادقین عربی میں تالیف کی اور پھر اس کے بعد رسالہ نور الحق بھی عربی میں تالیف کیا اور میں نے صاف صاف اشتہار دے دیا کہ اگر شیخ صاحب یا تمام مکفرّ مولویوں میںسے کوئی صاحب رسالہ کرامات الصادقین کے مقابل پر کوئی رسالہ تالیف کریں تو ایک ہزار روپیہ ان کو انعام ملے گا۔اور اگر نور الحق کے مقابل پر رسالہ لکھیں تو پانچ ہزار روپیہ ان کو دیا جائے گا۔لیکن وہ لوگ بالمقابل لکھنے سے بالکل عاجز رہ گئے۔اور جو تاریخ ہم نے اس درخواست کے لئے مقرر کی تھی یعنی اخیر جون ۱۸۹۴ء وہ گذر گئی۔شیخ صاحب کی اس خاموشی سے ثابت ہو گیا کہ وہ علم عربی سے آپ ہی بے بہرہ اور بے نصیب ہیں اور نہ صرف یہی بلکہ یہ بھی ثابت ہوا کہ وہ اوّل درجہ کے دروغ گو اور کاذب اور بے شرم ہیں کیونکہ انہوںنے تو تقریراً و تحریراً صاف اشتہار دے دیا تھا کہ یہ شخص علم عربی سے محروم اور جاہل ہے یعنی ایک لفظ تک عربی سے نہیں جانتا تو پھر ایسے ضروری مقابلہ کے وقت جس میں اُن پر فرض ہو چکا تھا کہ وہ اپنی علمیت ظاہر کرتے کیوں ایسے چُپ ہو گئے کہ گویا وہ اس دنیا میں نہیں ہیں۔خیال کرنا چاہیے کہ ہم نے کس قدر تاکید سے اُن کو میدان میں بلایا اور کن کن الفاظ سے اُن کو غیرت دلانا چاہا مگر انہوں نے اس طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ہم نے صرف اس خیال سے کہ شیخ صاحب کی عربی دانی کا دعویٰ بھی فیصلہ پا جائے