مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 476 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 476

مجموعه اشتہارات ۴۶ جلد اول اشتہار معیار الاخیار والاشرار بمقابلہ پادری عمادالدین اور دوسرے پادری صاحبوں کے بوعدہ انعام پانچ ہزار روپیہ واضح ہو کہ پادری عماد الدین صاحب کا ہمیشہ سے یہ دعوی ہے کہ قرآن شریف بلیغ فصیح کلام نہیں ہے اور جو کچھ اس پاک کلام میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ اعلیٰ درجہ کے فصاحت بلاغت وغیرہ لوازم دقائق حقائق کی رو سے معجزہ ہے، یہ بات نعوذ باللہ جھوٹ ہے۔ بلکہ وہ اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ معجزہ کا تو کیا ذکر بلکہ قرآن ادنی بلاغت فصاحت کے درجہ سے بھی گرا ہوا ہے۔ چنانچہ آپ آج کل کوئی تفسیر بھی لکھ رہے ہیں جس میں انہیں باتوں کا تذکرہ ہوگا اور وہ اس میں اپنی علمیت اور سمجھ کے بھروسہ پر دوسرے حملے بھی کریں گے۔ پادری صاحب موصوف کی کتابوں کو دیکھنے والے اس بات کی گواہی دے سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنی تحریرات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی کس قدر توہین کی ہے۔ کیا کوئی گالی ہے جو نہیں دی؟ کیا کوئی ٹھٹھا ہے جو نہیں کیا ؟ کیا کوئی دل آزار کلمہ ہے جو اُن کے مُنہ سے نہیں نکلا ۔ سب کچھ کیا ، لیکن گورنمنٹ انگریزی کی وفادار رعیت اہل اسلام گورنمنٹ کے منہ کے لیے اور اس کے احسانوں کو یاد کر کے آج تک صبر ہی کرتی رہی اور کریں گے اور اگر نہ کریں تو کیا کر سکتے ہیں۔ کیا کسی قانون میں ایسے لوگوں کی کوئی سزا بھی ہے جو اظہارِ رائے کی اوٹ میں ہر یک قسم کی اہانت اور بدگوئی اور دُشنام دہی کر رہے ہیں اور پھر عدالتوں لے نیک نیتی کی بنیاد پر اظہار رائے صرف اس حالت میں کہیں گے کہ جب بصیرت کی رُو سے رائے ظاہر کی جائے لیکن اگر بصیرت نہ ہو تو وہ اظہار رائے نہیں بلکہ مجرمانہ تو ہین ہے جو نیک نیتی سے نہیں۔ منہ