مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 476
اشتہار معیار الاخیار و الاشرار بمقابلہ پادری عماد الدین اور دوسرے پادری صاحبوں کے بوعدہ انعام پانچ ہزار روپیہ واضح ہو کہ پادری عماد الدین صاحب کا ہمیشہ سے یہ دعویٰ ہے کہ قرآن شریف بلیغ فصیح کلام نہیں ہے اور جو کچھ اس پاک کلام میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ اعلیٰ درجہ کے فصاحت بلاغت وغیرہ لوازم دقائق حقائق کی رو سے معجزہ ہے، یہ بات نعوذ باللہ جھوٹ ہے۔بلکہ وہ اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ معجزہ کا تو کیا ذکر بلکہ قرآن ادنیٰ بلاغت فصاحت کے درجہ سے بھی گرا ہوا ہے۔چنانچہ آپ آج کل کوئی تفسیر بھی لکھ رہے ہیں جس میں انہیں باتوں کا تذکرہ ہو گا اور وہ اس میں اپنی علمیّت اور سمجھ کے بھروسہ پر دوسرے حملے بھی کریں گے۔پادری صاحب موصوف کی کتابوں کو دیکھنے والے اس بات کی گواہی دے سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنی تحریرات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی کس قدر توہین کی ہے۔کیا کوئی گالی ہے جو نہیں دی؟ کیا کوئی ٹھٹھا ہے جو نہیں کیا؟ کیا کوئی دل آزار کلمہ ہے جو اُن کے مُنہ سے نہیں نکلا۔سب کچھ کیا، لیکن گورنمنٹ انگریزی کی وفادار رعیّت اہلِ اسلام گورنمنٹ کے منہ کے لیے اور اس کے احسانوں کو یاد کر کے آج تک صبر ہی کرتی رہی اور کریں گے اور اگر نہ کریں تو کیا کر سکتے ہیں۔کیا کسی قانون میں ایسے لوگوں کی کوئی سزا بھی ہے جو اظہارِ رائے کی اوٹ میں ہریک قسم کی اہانت اور بدگوئی اور دُشنام دہی کر رہے ہیں ۱؎ اور پھر عدالتوں ۱؎ نیک نیتی کی بنیاد پر اظہار رائے صرف اس حالت میں کہیں گے کہ جب بصیرت کی رُو سے رائے ظاہر کی جائے لیکن اگر بصیرت نہ ہو تو وہ اظہار رائے نہیں بلکہ مجرمانہ توہین ہے جو نیک نیتی سے نہیں۔منہ