مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 464
چودھویں صدی پر جما کر اپنی اولاد کو وصیّت کی کہ اگر مَیں چودھویں صدی کے دنوں تک زندہ نہ رہوں تو میری اولاد اُس آنے والے موعود کو السلام علیکم کہہ دے۔ایسا ہی شاہ ولی اللہ صاحب بھی السلام علیکم کی وصیت کر گئے۔مگر جب وہ موعود ـآیا۔تو لوگ بگڑ گئے۔اور مسیح کی وفات کے بارہ میں جس کا قرآن کریم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کر دیا شک میں پڑ گئے۔اور یہ نہ سمجھے کہ اگر بالفرض وفات یا عدم وفات میں شک ہے تو ایسی پیچ دار اور مبہم پیشگوئی کا فیصلہ اُس آنے والے کی زبان سے ہونا چاہیے جس کا نام حَکَم رکھا گیا۔اب اس اشتہار میں اس حجت کو آپ لوگوں پر پورا کرنا مقصد ہے کہ وہ مسیح موعود درحقیقت یہی عاجز ہے۔قرآن کریم کو کھولواور توجہ سے دیکھو کہ حضرت مسیح علیہ السلام بلاشبہ فوت ہو گئے۔اور اگر اِس عاجز کے بارے میں شک ہو تو ایک فیصلہ نہایت آسان ہے کہ ہر ایک شخص آپ لوگوں میں سے جس کا مُرید ہے اُس کو اس عاجز کے مقابل پر کھڑا کرے تا صداقت کے نشان دکھلانے میں وہ میرے ساتھ مقابلہ کر سکے۔اور یقینا سمجھو کہ اگر وہ مقابل پر آیا تو اُس سے زیادہ اس کی رُسوائی ہو گی جو حضرت موسیٰ ؑ کے مقابل پر بَلعَم کی ہوئی۔اور اگر وہ مقابلہ منظور نہ کرے اور حق کا طالب ہو تو خدا تعالیٰ اُس کی درخواست پر اور اس کے حاضر ہونے سے نشان دکھلائے گا۔بشرطیکہ وہ اس جماعت میں داخل ہونے کے لیے مستعد ہو۔اور اگر اس اشتہار کے جاری ہونے کے بعد آپ لوگوں کے پیر اور مشایخ اور مجتہد بدگوئی اور تکفیر سے باز نہ آویں اور اس عاجز کی صداقت کو قبول نہ کریں اور مقابلہ سے روپوش رہیں تو دیکھو کہ میں خدا تعالیٰ کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ خدا انہیں رُسوا کرے گا۔اے شوخ چشم اور گرمی دار لوگو! جو کسی شیخ اور پیر زادہ کے مُرید ہو۔یہ میرا اشتہار ضرور اپنے ایسے مُرشد کو جو میرے مقام کو تسلیم نہیں کرتا دکھلاؤ، اور اگر وہ اس وقت مقابلہ سے روپوش رہے تو یقینا سمجھو کہ وہ اپنی مشیخت نمائی میں کذّاب ہے۔مجھے خدا تعالیٰ نے کئی قسم کے نشان دئیے ہیں۔جیسا کہ اس میں سے استجابت دعوات اور مکالمات الٰہیہ کا نشان اور معارف قرآنی کا نشان ہے۔سو اپنے تئیں دھوکہ مت دو۔ہر یک کو پرکھو اور پھر سچ کو قبول کرو۔اے ضعیف بندو! خدا تعالیٰ سے مت لڑو۔اپنے پلنگوں پر لیٹ کر سوچو اور اپنے