مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 463 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 463

مجموعه اشتہارات ۴۶۳ جلد اول (۸) زِ فکر تفرقہ باز آ باشتی پرداز وگرنه گریه بر غمگسار خود بکنم (۹) عمارت ہمہ دوناں خراب خواہم ساخت اگر ز چشمرواں آبشار خود بکنم (۱۰) مقیم بر سر راہے نشسته ام ہر دم که تا گزارش عرضی بیار خود بکنم (11) بروئے یار کہ از بہر قوم می سوزم مگر دلش چو دل ریش و زار خود بکنم بنام مسلمانان ہند ۔ یعنی ان سب کی طرف جو مختلف مذاہب کے اسلامی فرقے ملک ہند میں موجود ہیں۔ اے اخوان دین و متبعین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر چہ میں نے علماء اور فقراء کی خدمت میں بہت کچھ لکھا اور اتمام حجت کا حق ادا کر دیا مگر آج میرے دل میں یہ ڈالا گیا کہ ایک اشتہار عام طور پر آپ لوگوں پر حجت پوری کرنے کے لیے شائع کروں تا میں اس امر تبلیغ میں ہریک پہلو سے سُرخرو ہو جاؤں ۔ سو بھائیو! میں آپ لوگوں پر ظاہر کرتا ہوں کہ وہ جو چودھویں صدی کے سر پر ایک مجد دموعود آنے والا تھا جس کی نسبت بہت سے راستباز ملہموں نے پیشگوئی کی تھی کہ وہ مسیح موعود ہوگا ۔ وہ میں ہی ہوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر شاہ ولی اللہ تک مقدس لوگوں نے الہام پا کر یہ پیشگوئی کی تھی کہ وہ آنے والا مسیح موعود چودھویں صدی کا مجد د ہو گا۔ سواب وہ تمام باتیں پوری ہوئیں۔ اے بزرگو! یہ بات صحیح نہیں ہے کہ چودھویں صدی مجدّد کے ظہور سے خار خالی گئی۔ اور اگر آ آیا تو ایک دجال آیا ۔ اے حق کے طالبو! یہ وہ صدی تھی جس کے آنے سے پہلے ہی خدا تعالیٰ نے تمام خیالوں کو اس طرف پھیر دیا تھا کہ اس کے سر پر ایک عظیم الشان مجدد پیدا ہو گا۔ کتابوں کو دیکھو اور بزرگوں کے نوشتوں کو غور سے پڑھو کہ کیونکر ان کے دل اسی طرف یک دفعہ جھک گئے کہ وہ آنے والا ضرور اسی صدی کے سر پر آئے گا۔ یہاں تک کہ نواب صدیق حسن خاں صاحب مرحوم نے بھی اپنے خیال کو بقیہ ترجمہ اشعار ۔ (۸) تفرقہ پردازی کے ارادہ سے باز آ اور صلح کرلے ورنہ میں اپنے خدا کے سامنے آہ وزاری کروں گا۔ (۹) میں ان سب نالا یقوں کی عمارت کو برباد کر کے رکھ دوں گا اگر میں اپنی آنکھوں سے آنسوؤں کا ) ایک چشمہ جاری کر دوں۔ (۱۰) میں تو ہر وقت ایک رستہ پر بیٹھا ہوں تا کہ اپنے خدا کے حضور اپنی التجا پیش کروں ۔ (۱۱) خدا کی قسم میں اپنی قوم کی خیر خواہی میں جل رہا ہوں تا کہ قوم کے دل کو بھی اپنے زخمی اور نالاں دل کی طرح کردوں۔