مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 462 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 462

اشتہار نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ (۱) بہر دم از دل و جان وصفِ یار خود بکنم من آں نیم کہ تغافل زِ کار خود بکنم۱؎ (۲) بہر زماں بدلم ایں ہوس ہمے جوشد کہ ہرچہ ہست نثارِ نگار خود بکنم (۳) اگرچہ در رہِ جاناں چو خاک گردیدم دلم تپد کہ فدایش غبار خود بکنم (۴) روم بگلشن دلدادگاں کزاں باغم چرا بکوچۂ غیرے قرار خود بکنم (۵) رسید مژدہ کہ ایّام نو بہار آید زمانہ را خبر از برگ و بار خود بکنم (۶) تعلّقات دلآرام خویش بنمایم ہمائے اوجِ سعادت شکار خود بکنم (۷) بگوش ہوش شنو از من اے مکفّر من کہ من گواہ بدیں کردگار خود بکنم ترجمہ اشعار۔(۱)میں ہر دم دل وجان سے اپنے خدا کی تعریف کرتا ہوں میں وہ نہیں ہوں کہ اپنے کام سے غفلت کروں۔(۲)ہر وقت میرے دل میں یہ شوق جوش مارتا ہے کہ جو کچھ بھی میرے پاس ہے وہ اپنے محبوب پر قربان کر دوں۔(۳)اگرچہ میں محبوب کی راہ میں خاک کی طرح ہو گیا ہوں مگر میرا دل تڑپتا ہے کہ اپنا غبار بھی اُس پر فدا کر دوں۔(۴)میں عاشقوں کے ُگلشن میں جاتا ہوں اس باغ کو چھوڑ کر میں کسی غیر کے کوچہ میں کیوں اپنا مسکن بنائوں۔(۵)مجھے خوشخبری ملی ہے کہ پھر موسم بہار آگیا تاکہ زمانہ کو میں اپنے پھلوں اور پتوں کی خبر کر دوں۔(۶)اور اپنے محبوب کے تعلقات کا اظہار کروں اور ہمائے اَوجِ سعادت کو اپنا شکار بنائوں۔(۷)اے میرے مکفر ہوش سے یہ میری بات سن کہ میں اس پر اپنے خدا کو گواہ کرتا ہوں۔