مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 458
مجموعه اشتہارات ۴۵۸ جلد اول اور سانپوں تک آزاردینا نہیں چاہتے ۔ قرآنی تعلیم کا دوسرا کمال کمال تفہیم ہے۔ یعنی اس نے ان تمام راہوں کو سمجھانے کیلئے اختیار کیا ہے جو تصور میں آسکتے ہیں۔ اگر ایک عامی ہے تو اپنی موٹی سمجھ کے موافق اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اگر ایک فلسفی ہے تو اپنے دقیق خیال کے مطابق اس سے صداقتیں حاصل کرتا ہے اور اس نے تمام اصول ایمانیہ کو دلائل عقلیہ سے ثابت کر کے دکھلا دیا ہے اور آیت تَعَالَوْا إِلى كَلِمَةٍ لے میں اہل کتاب پر یہ حجت پوری کرتا ہے کہ اسلام وہ کامل مذہب ہے کہ زوائد اختلافی جو تمہارے ہاتھ میں ہیں یا تمام دنیا کے ہاتھ میں ہیں ان زوائد کو نکال کر باقی اسلام ہی رہ جاتا ہے اور پھر قرآن کریم کے کمالات میں تیسرا حصہ اُس کی تاثیرات ہیں اگر حضرت مسیح کے حواریوں اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا ایک نظر صاف سے مقابلہ کیا جائے تو ہمیں کچھ بتلانے کی حاجت نہیں اُس مقابلہ سے صاف معلوم ہو جائے گا کہ کسی تعلیم نے قوت ایمانی کو انتہا تک پہنچا دیا ہے۔ یہاں تک کہ ان لوگوں نے اس تعلیم کی محبت سے اور رسول کے عشق سے اپنے وطنوں کو بڑی خوشی سے چھوڑ دیا اپنے آراموں کو بڑی راحت کے ساتھ ترک کر دیا۔ اپنی جانوں کو فدا کر دیا۔ اپنے خونوں کو اس راہ میں بہا دیا اور کس تعلیم کا یہ حال ہے۔ اس رسول کو یعنی حضرت مسیح کو جب یہودیوں نے پکڑا تو حواری ایک منٹ کے لئے بھی نہ ٹھہر سکے۔ اپنی اپنی راہ لی اور بعض نے تمھیں روپیہ لے کر اپنے نبی مقبول کو بیچ دیا۔ اور بعض نے تین دفعہ انکار کیا اور انجیل کھول کر دیکھ لو کہ اس نے لعنت بھیج کر اور قسم کھا کر کہا کہ اس شخص کو نہیں جانتا پھر جبکہ ابتدا سے زمانہ کا یہ حال تھا یہاں تک کہ تجہیز و تکفین تک میں بھی شریک نہ ہوئے تو پھر اس زمانہ کا کیا حال ہوگا جبکہ حضرت مسیح ان میں موجود نہ رہے۔ مجھے زیادہ لکھانے کی ضرورت نہیں ۔ اس بارہ میں بڑے بڑے علماء عیسائیوں نے اسی زمانہ میں گواہی دی ہے کہ حواریوں کی حالت صحابہ کی حالت سے جس وقت ہم مقابلہ کرتے ہیں تو ہمیں شرمندگی کے ساتھ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ حواریوں کی حالت اُن کے مقابل پر ایک قابل شرم عمل تھا۔ پھر آپ قرآنی معجزات کا انکار کرتے ہیں آپ کو معلوم نہیں کہ وہ معجزات جس تواتر اور قطعیت سے ثابت ہو گئے اُن ال عمران : ۶۵