مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 457
مجموعه اشتہارات ۴۵۷ جلد اول خوش سلو کی ایسی حالت میں کرے گا کہ جب اوّل کوئی قوت اُس کے دل میں خوش سلوکی کے لیے وجوہات پیش کرے اور اس کو خوش سلوکی کرنے کے لئے رغبت دے تو پھر قوت رحم ہے جو نوع انسان کی ہر ایک قسم کی ہمدردی کے لئے جوش مارتی ہے اور جب تک کوئی شخص قابل خوش سلوکی کے قرار نہ پاوے اور کسی جہت سے قابل رحم نہ نظر آوے بلکہ قابلِ قہر نظر آوے تو کون اس سے خوش سلوکی کرتا ہے۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ حیوانات کو قتل ہوتے دیکھ کر کیا ہم فرض کر لیں کہ خدا نے ظلم کیا۔ میں کہتا ہوں میں نے کب اس کا نام ظلم رکھا ہے میں تو کہتا ہوں کہ یہ عمل درآمد مالکیت کی بنا پر ہے۔ جب آپ اس بات کو مان چکے کہ تفاوت مراتب مخلوقات یعنی انسان و حیوانات کا بوجہ مالکیت ہے اس کی تناسخ وجہ نہیں تو پھر اس بات کو مانتے ہوئے کون سی بات سد راہ ہے جو دوسرے لوازم جو حیوان بننے سے پیش آگئے وہ بھی بوجہ مالکیت ہیں اور بالآخر قرآن کریم کے بارہ میں آپ پر ظاہر کرتا ہوں کہ قرآن کریم نے اپنے کلام اللہ ہونے کی نسبت جو ثبوت دیئے ہیں اگر چہ میں اس وقت ان سب ثبوتوں کو تفصیل وار نہیں لکھ سکتا لیکن اتنا کہتا ہوں کہ منجملہ ان ثبوتوں کے بیرونی دلائل ہیں جیسے پیش از وقت نبیوں کا خبر دینا جو انجیل میں بھی لکھا ہوا آپ پاؤ گے دوسرے ضرورت حقہ کے وقت پر قرآن شریف کا آنا یعنی ایسے وقت پر جبکہ عملی حالت تمام دنیا کی بگڑ گئی تھی اور نیز اعتقادی حالت میں بھی بہت اختلاف آگئے تھے اور اخلاقی حالتوں میں بھی فتور آگیا تھا۔ تیسرے اس کی حقانیت کی دلیل اس کی تعلیم کامل ہے کہ اُس نے آکر ثابت کر دکھلایا کہ موسیٰ کی تعلیم بھی ناقص تھی جو ایک شق سزا دہی پر زور ڈال رہی تھی اور مسیح کی تعلیم بھی ناقص تھی جو ایک شق عفو اور درگزر پر زور ڈال رہی تھی اور گویا ان کتابوں نے انسانی درخت کی تمام شاخوں کی تربیت کا ارادہ ہی نہیں کیا تھا صرف ایک ایک شاخ پر کفایت کی گئی تھی لیکن قرآن کریم انسانی درخت کی تمام شاخوں یعنی تمام قومی کو زیر بحث لایا اور تمام کی تربیت کے لئے اپنے اپنے محل و موقع پر حکم دیا۔ جس کی تفصیل ہم اس تھوڑے سے وقت میں کر نہیں سکتے ۔ انجیل کی کیا تعلیم تھی جس پر مدار رکھنے سے سلسلہ دنیا کا ہی بگڑتا ہے اور پھر اگر یہی عفو اور درگزر عمدہ تعلیم کہلاتی ہے تو جین مت والے کئی نمبر اس سے بڑھے ہوئے ہیں جو کیڑے مکوڑوں اور جوؤں