مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 456
ان ساتوں قوموں سے ایک قوم ہے خراج لینا ثابت ہے۔پھر دیکھو یشوع اور قاضیوں جو قوم اموریوں سے جزیہ لیا گیا۔پھر آپ اعادہ اس بات کا کرتے ہیں کہ قرآن نے یہ تعلیم دی ہے کہ خوفزدہ ہونے کی حالت میں ایمان کو چھپاوے۔میں لکھ چکا ہوں کہ قرآن کی یہ تعلیم نہیں ہے۔قرآن نے بعض ایسے لوگوں کو جن پر یہ واقعہ وارد ہو گیا تھا ادنیٰ درجہ کے مسلمان سمجھ کر ان کو مومنوں میں داخل رکھا ہے۔آپ اس کو سمجھ سکتے ہیں کہ ایک طبقہ کے ایماندار نہیں ہوا کرتے اور آپ اس سے بھی نہیں انکار کریں گے کہ بعض دفعہ حضرت مسیح یہودیوں کے پتھرائو سے ڈر کر ان سے کنارہ کرگئے اور بعض دفعہ توریہ کے طور پر اصل بات کو چھپا دیا۔اور متی میں لکھا ہے تب اُس نے اپنے شاگردوں کو حکم کیا کہ کسوسے نہ کہنا کہ میں یسوع مسیح ہوں۔اب انصاف سے کہیں کہ کیا یہ سچے ایمانداروں کا کام ہے اور ان کا کام ہے جو رسول اور مبلّغ ہوکر دنیا میں آتے ہیں کہ اپنے تئیں چھپائیں۔اس سے زیادہ آپ کو ملزم کرنے والی اور کونسی نظیر ہوگی بشرطیکہ آپ فکر کریں۔اور پھر آپ لکھتے ہیں کہ دَلدل میں آفتاب کا غروب ہونا سلسلہ مجازات میں داخل نہیں مگر عَیْنٍٍ حَمِئَۃٍ ۱؎ سے تو کالا پانی مراد ہے اور اس میں اب بھی لوگ یہی نظارہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں اور مجازات کی بنا مشاہداتِ عینیہ پر ہے جیسے ہم ستاروں کو کبھی نقطہ کے موافق کہہ دیتے ہیں اور آسمان کو کبود رنگ کہہ دیتے ہیں اور زمین کو ساکن کہہ دیتے ہیں پس جب کہ انہیں اقسام میں سے یہ بھی ہے تو اس سے کیوں انکار کیا جائے۔آپ فرماتے ہیں کہ کلام مجسّم بھی ایک استعارہ ہے مگر کوئی شخص ثبوت دے کہ دنیا میں یہ کہاں بولا جاتا ہے کہ فلاں شخص کلام مجسّم ہو کر آیا ہے اورگوڈنس کی تاویل پھر آپ تکلف سے کرتے ہیں۔میں کہہ چکا ہوں کہ گوڈنس یعنی احسان کوئی صفت صفات ذاتیہ میں سے نہیں ہے یہ کہہ سکتے ہیں کہ مجھے رحم آتاہے یہ نہیں کہہ سکتے کہ مجھے احسان آتا ہے مگر آپ پوچھتے ہیں کہ اگریونہی بغیر کسی کی مصیبت دیکھنے کے اس سے خوش سلوکی کی جائے تو اس کو کیا کہیںگے۔سو آپ کویاد رہے کہ وہ بھی رحم کے وسیع مفہوم میں داخل ہے کوئی انسان کسی سے ۱؎ الکھف: ۸۷