مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 443
مجموعه اشتہارات ۴۴۳ جلد اول ظاہری اُمیدوں سے زیادہ ہوں قبول فرما کر اپنے الہام اور کلام کے ذریعہ سے ان کو اطلاع دے دیتا ہے تب اُن کے دل تستی پکڑ جاتے ہیں کہ یہ ہمارا قادر خدا ہے جو ہماری دعائیں سننا اور ہم کو اطلاع دیتا اور مشکلات سے ہمیں نجات بخشتا ہے ۔ اسی روز سے نجات کا مسئلہ بھی سمجھ آتا ہے اور خدا تعالیٰ کے وجود کا بھی پتہ لگتا ہے اگر چہ جگانے اور متنبہ کرنے کے لئے کبھی کبھی غیروں کو بھی سچی خواب آسکتی ہے مگر اس طریق کا مرتبہ اور شان اور رنگ اور ہے یہ خدا تعالیٰ کا مکالمہ ہے جو خاص مقربوں بوں سے ہی ہوتا ہے اور جب مقرب انسان دُعا کرتا ہے تو خدا تعالٰی اپنی خدائی کے جلال کے ساتھ اس پر تجلی فرماتا ہے اور اپنی روح اُس پر نازل کرتا ہے اور اپنی محبت سے بھرے ہوئے لفظوں کے ساتھ اس کو قبول دعا کی بشارت دیتا ہے اور جس کسی سے یہ مکالمہ کثرت سے وقوع میں آتا ہے اس کو نبی یا محدث کہتے ہیں اور سچے مذہب کی یہی نشانی ہے کہ اس مذہب کی تعلیم سے ایسے راستباز پیدا ہوتے رہیں جو محدث کے مرتبہ تک پہنچ جائیں جن سے خدا تعالی آمنے سامنے کلام کرے اور اسلام کی حقیت اور حقانیت کی اوّل نشانی یہی ہے کہ اس میں ہمیشہ ایسے راستباز جن سے خدا تعالیٰ ہمکلام ہو پیدا ہوتے ہیں۔ تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ أَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوا لے سو یہی معیار حقیقی سچے اور زندہ اور مقبول مذہب کی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ نور صرف اسلام میں ہے عیسائی مذہب اس روشنی سے بے نصیب ہے۔ اور ہماری یہ بحث جو ڈاکٹر کلارک صاحب سے ہے اس غرض اور اسی شرط سے ہے کہ اگر وہ اس مقابلہ سے انکار کریں تو یقیناً سمجھو کہ عیسائی مذہب کے بطلان کے لئے یہی دلیل ہزار دلیل سے بڑھ کر ہے کہ مردہ ہرگز زندہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور نہ اندھا سو جاکھے کے ساتھ پورا اتر سکتا ہے۔ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى خاکسار میرزاغلام احمد از قادیان ضلع گورداسپوره ۵ مئی ۱۸۹۳ء یہ اشتہار حجة الاسلام با راول مطبوعہ ریاض ہندا مر تسر ۸ مئی ۱۸۹۳ء کے ٹائیٹل پیچ پر ہے ) (روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۴۲ ۴۳) ا حم السجدة: ٣١