مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 436 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 436

اور برگزیدہ ہے اور مجھ کو یہ بھی فرمایا کہ جو مسیح کو دیا گیا وہ بمتابعت نبی علیہ السلام تجھ کو دیا گیا ہے اور تو مسیح موعود ہے اور تیرے ساتھ ایک نورانی حربہ ہے جو ظلمت کو پاش پاش کرے گا اور یکسر الصلیب کا مصداق ہو گا پس جبکہ یہ بات ہے تو میری سچائی کے لئے یہ ضروری ہے کہ میری طرف سے بعد مباہلہ ایک سال کے اندر ضرور نشان ظاہر ہو اور اگر نشان ظاہر نہ ہوتو پھر میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوں اور نہ صرف وہی سزا بلکہ موت کی سزا کے لائق ہوں سو آج میں ان تمام باتوں کو قبول کر کے اشتہار دیتا ہوں۔اب بعد شائع ہونے اس اشتہار کے مناسب اور واجب ہے کہ ڈاکٹر صاحب بھی اس قدر اشتہار دے دیں کہ اگر بعد مباہلہ مرزا غلام احمد کی تائید میں ایک سال کے اندر کوئی نشان ظاہر ہوجائے جس کے مقابل پر اسی سال کے اندر ہم نشان دکھلانے سے عاجز آجائیں تو بلا توقف دین اسلام قبول کر لیں گے ورنہ اپنی تمام جائداد کا نصف حصہ دین اسلام کی امداد کی غرض سے فریق غالب کو دے دیںگے۔اور آئندہ اسلام کے مقابل پرکبھی کھڑے نہیں ہوں گے۔ڈاکٹر صاحب اس وقت سوچ لیویں کہ میں نے اپنی نسبت بہت زیادہ سخت شرائط رکھی ہیں اور انکی نسبت شرطیں نرم رکھی گئی ہیں۔یعنی اگر میرے مقابل پر وہ نشان دکھلائیں اور میں بھی دکھلاؤ ں تب بھی بموجب اس شرط کے وہی سچے قرار پائیں گے۔اور اگر نہ میں نشان دکھلا سکوں اور نہ وہ ایک سال تک نشان دکھلا سکیں تب بھی وہی سچے قرار پائیں گے۔اور میں صرف اس حالت میں سچا قرار پاؤں گا کہ میری طرف سے ایک سال کے اندر ایسا نشان ظاہر ہو جس کے مقابلہ سے ڈاکٹر صاحب عاجز رہیں اور اگر ڈاکٹر صاحب بعد اشاعت اس اشتہار کے ایسے مضمون کا اشتہار بالمقابل شائع نہ کریں تو پھر صریح ان کی گریز متصور ہو گی اور ہم پھر بھی ان کی منقولی و معقولی بحث کے لئے حاضر ہو سکتے ہیں بشرطیکہ وہ اس بارے میں یعنی نشان نمائی کے امر میں اپنا اور اپنی قوم کا اسلام کے مقابل پر عاجز ہونا شائع کر دیں یعنی یہ لکھ دیں کہ یہ اسلام ہی کی شان ہے کہ اس سے آسمانی نشان ظاہر ہوں اور عیسائی مذہب ان برکات سے خالی ہے۔میں نے سنا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے میرے دوستوں کے روبرو یہ بھی فرمایا تھا کہ ہم مباحثہ تو کریں گے مگر یہ مباحثہ فرقہ احمدیہ سے ہوگا نہ مسلمانانِ جنڈیالہ سے۔سو ڈاکٹر صاحب کو واضح رہے کہ فرقہ احمدیہ ہی