مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 435
بکلّی عاجز رہا تو فریق نشان دکھلانے والے کا غالب ہونا بکلی کھل جائے گا اور تمام بحثیں ختم ہو جائیں گی اور حق ظاہر ہو جائیگا لیکن ایک ہفتہ سے زیادہ گذرتا ہے جو آج تک جو ۳ ؍مئی ۱۸۹۳ء ہے ڈاکٹر صاحب نے اس خط کا کچھ بھی جواب نہیں دیا لہٰذا اس اشتہار کے ذریعہ سے ڈاکٹر صاحب اور ان کے تمام گروہ کی خدمت میں التماس ہے کہ جس حالت میں انہوں نے اس مباحثہ کا نام جنگِ مقدس رکھا ہے اور چاہتے ہیں کہ مسلمانوں اور عیسائیوں میں قطعی فیصلہ ہوجائے اور یہ بات کھل جائے کہ سچااور قادر خدا کس کا خدا ہے تو پھر معمولی بحثوں سے یہ اُمید رکھنا طمع خام ہے اگر یہ ارادہ نیک نیتی سے ہے تو اس سے بہتر اور کوئی بھی طریق نہیں کہ اب آسمانی مدد کے ساتھ صدق اور کذب کو آزمایا جائے اور میں نے اس طریق کو بدل و جان منظور کرلیا ہے اور وہ طریق بحث جو منقولی اور معقولی طور پر قرار پایا ہے گو میرے نزدیک چنداں ضروری نہیں مگر تاہم وہ بھی مجھے منظور ہے لیکن ساتھ اسکے یہ ضروریات سے ہوگا کہ ہر یک چھ دن کی میعاد کے ختم ہونے کے بعد بطور متذکرہ بالا مجھ میں اور فریق مخالف میں مباہلہ واقع ہو گا اور یہ اقرار فریقین پہلے سے شائع کردیں کہ ہم مباہلہ کریںگے۔یعنی اس طور سے دعا کریں گے کہ اے ہمارے خُدا! اگر ہم دجل پر ہیںتوفریق مخالف کے نشان سے ہماری ذلّت ظاہر کر اوراگر ہم حق پر ہیں تو ہماری تائید میں نشان آسمانی ظاہر کر کے فریق مخالف کی ذلّت ظاہر فرما اور اس دُعا کے وقت دونوں فریق آمین کہیںگے اور ایک سال تک اسکی میعاد ہوگی اور فریق مغلوب کی سزا وہ ہوگی جو اوپر بیان ہو چکی ہے۔اور اگر یہ سوال ہو کہ اگر ایک سال کے عرصہ میں دونوں طرف سے کوئی نشان ظاہر نہ ہو یا دونوں طرف سے ظاہر ہو تو پھر کیونکر فیصلہ ہوگا تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ راقم اس صورت میں بھی اپنے تئیں مغلوب سمجھے گا اور ایسی سزا کے لائق ٹھہرے گا جو بیان ہو چکی ہے چونکہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوں اور فتح پانے کی بشارت پا چکا ہوں۔پس اگر کوئی عیسائی صاحب میرے مقابل آسمانی نشان دکھلاویں یا میں ایک سال تک دکھلا نہ سکوں تو میرا باطل پر ہونا کھل گیا اور اللہجَلَّ شَانُـہٗ کی قسم ہے کہ مجھے صاف طور پر اللہجَلَّ شَانُـہٗ نے اپنے الہام سے فرما دیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بلاتفاوت ایسا ہی انسان تھا جس طرح اور انسان ہیں مگر خدا تعالیٰ کا سچا نبی اور اُس کا مرسل