مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 432 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 432

(۴)شیخ رحمت اللہ صاحب(۵) مولوی عبدالکریم صاحب (۶) منشی غلام قادر صاحب فصیح۔(۷)میاں محمدیوسف خاں صاحب (۸) شیخ نوراحمدصاحب (۹) میاں محمدا کبر صاحب۔(۱۰)حکیم محمد اشرف صاحب (۱۱)حکیم نعمت اللہ صاحب (۱۲) مولوی غلام احمدصاحب انجینئر۔(۱۳)میاں محمد بخش صاحب (۱۴)خلیفہ نورالدین صاحب (۱۵) میاں محمد اسمٰعیل صاحب۔تب ڈاکٹر صاحب اور میرے دوستوں میں جو میری طرف سے وکیل تھے کچھ گفتگو ہو کر بالاتفاق یہ بات قرار پائی کہ یہ مباحثہ بمقام امرت سر واقع ہو اور ڈاکٹر صاحب کی طرف سے اِس جنگ کا پہلوان مسٹر عبداللہ آتھم سابق اکسٹرا اسسٹنٹ تجویز کیا گیا اور یہ بھی اُن کی طرف سے تجویز کیا گیا کہ فریقین تین تین معاون اپنے ساتھ رکھنے کے مجاز ہوں گے اور ہر یک فریق کو چھ چھ دن فریق مخالف پر اعتراض کرنے کے لئے دیئے گئے اس طرح پر کہ اوّل چھ روز تک ہمارا حق ہوگا کہ ہم فریق مخالف کے مذہب اور تعلیم اور عقیدہ پر اعتراض کریں مثلاً حضرت مسیح علیہ السلام کی الُوہیّت اور اُن کے منجّی ہونے کے بارہ میں ثبوت مانگیں یا اور کوئی اعتراض جو مسیحی مذہب پر ہوسکتا ہے پیش کریں ایسا ہی فریق مخالف کا بھی حق ہوگا کہ وہ بھی چھ روز تک اسلامی تعلیم پر اعتراض کئے جائیں۔اور یہ بھی قرار پایا کہ مجلسی انتظام کے لئے ایک ایک صدر انجمن مقرر ہو جو فریق مخالف کے گروہ کو شور و غوغا اور ناجائز کارروائی اور دخل بیجا سے روکے اور یہ بات بھی باہم مقر ّر اور مسلّم ہو چکی کہ ہریک فریق کے ساتھ پچاس سے زیادہ اپنی قوم کے لوگ نہیں ہوں گے اور فریقین ایک سو ٹکٹ چھاپ کر پچاس پچاس اپنے اپنے آدمیوں کے حوالہ کریں گے اور بغیر دکھلانے ٹکٹ کے کوئی اندر نہیں آسکے گا اور آخر پر ڈاکٹر صاحب کی خاص درخواست سے یہ بات قرار پائی کہ یہ بحث ۲۲؍ مئی ۱۸۹۳ء سے شروع ہونی چاہیے انتظام مقام مباحثہ اور تجویز مباحثہ ڈاکٹر صاحب کے متعلق رہا اور وہی اس کے ذمّہ دار ہوئے۔اور بعد طے ہونے ان تمام مراتب کے ڈاکٹر صاحب اور اخویم مولوی عبدالکریم صاحب کی اس تحریر پر دستخط ہوگئے جس میں یہ شرائط بہ تفصیل لکھے گئے تھے اور یہ قرار پایا کہ ۱۵؍ مئی ۱۸۹۳ء تک فریقین ان شرائط مباحثہ کو شائع کر دیں اور پھر میرے دوست قادیان میں پہنچے اور چونکہ اکٹر صاحب نے اس مباحثہ کا