مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 428 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 428

مجموعه اشتہارات ۴۲۸ جلد اول بدگوئی اور بد زبانی پر مستعد ہو گئے کہ گویا اُن کا روپیہ کسی چور نے چھین لیا، یا اُن پر کوئی قزاق پڑا۔ اور گویا وہ ایسی بے رحمی سے لوٹے گئے کہ اس کے عوض میں کچھ بھی ان کو نہیں دیا گیا۔ اور ان لوگوں نے زبان درازی اور باطنی سے اس قدر اپنے نامہ اعمال کو سیاہ کیا کہ کوئی دقیقہ سخت گوئی کا باقی نہ رکھا۔ اس عاجز کو چور قرار دیا ۔ مگار ٹھہرایا ۔ مال مردم خور کر کے مشہور کیا۔ حرام خور کہہ کر نام لیا۔ دغا باز نام رکھا۔ اور اپنے پانچ یا دس روپیہ کے غم میں وہ سیا پا کیا کہ گویا تمام گھر ان کا لوٹا گیا اور باقی کچھ نہ رہا لیکن ہم ان بزرگوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا آپ نے یہ روپیہ مفت دیا تھا اور کیا وہ کتابیں جو اس کے عوض میں تم نے لیں جن کے ذریعہ سے تم نے وہ علم حاصل کیا جس کی تمہیں اور تمہارے باپ دادوں کو کیفیت معلوم نہیں تھی اور وہ بغیر ایک عمر خرچ کرنے کے اور بغیر خون جگر کھانے کے یونہی تالیف ہوگئی تھیں ۔ اور بغیر صرف مال کے یونہی چھپ گئی تھیں۔ اور اگر در حقیقت وہ بے بہا جواہرات تھی جس کے عوض آپ نے پانچ یا دس روپے دیئے تھے تو کیا یہ شکوہ روا تھا کہ بے ایمانی اور دھوکہ دہی سے ہمارا روپیہ لے لیا گیا۔ آخران جوانمردوں اور پُر جوش مسلمانوں کو دیکھنا چاہیے کہ جنہوں نے براہین کے ان حصوں کو دیکھ کر بغیر خریداری کی نیت کے صرف حقایق معارف کو مشاہدہ کر کے صدہا روپیہ سے محض اللہ مدد کی اور پھر عذر کیا کہ ہم کچھ نہیں کر سکے۔ ظاہر ہے کہ اس زمانہ میں تمام قو میں تلواریں کھینچ کر اسلام کے گرد ہو رہی ہیں اور کروڑ ہا روپیہ چندہ کر کے اس فکر میں ہیں کہ کسی طرح اسلام کو روئے زمین سے نابود کر دیں۔ ایسے وقت میں اگر اسلام کے حامی اسلام کے مددگار اسلام کے غم خوار یہی لوگ ہیں کہ ایسی کتاب کے مقابل پر جو اسلام کے لئے نئے اور زندہ ثبوتوں کی بنیاد ڈالتی ہے اس قدر جزع فزع کر رہے ہیں اور ایک معقول حصہ کتاب کا لے کر پھر یہ ماتم اور فریاد ہے تو پھر اس دین کا خدا حافظ ہے مگر نہیں ۔ اللہ جل شانہ کو ایسے لوگوں کی ہرگز پروانہیں جو دنیا کو دین پر مقدم رکھتے ہیں ۔ نہایت تعجب انگیز یہ امر ہے کہ اگر کسی صاحب کو بقیہ براہین کے نکلنے میں دیر معلوم ہوئی تھی اور اپنا روپیہ یاد آیا تھا تو اس شور و غوغا کی کیا ضرورت تھی ۔ اور دغا باز اور چور اور حرام خور نام رکھ کر اپنے نامہ اعمال کے