مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 416
کرتا ہے جو صادقین کی تائید کے لیے اس کی عادت ہے اگرچہ دل میں اس وقت یہ خیال بھی آتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ آپ اس صاف اقرار کے بعد رسالہ میں کچھ اَور کا اَور لکھ ماریں، لیکن پھر اس بات سے تسلّی ہوتی ہے کہ ایسے صاف اور کھلے کھلے اقرار کے بعد کہ میں نے آپ کی ہر ایک بات مان لی ہے، ہرگز ممکن نہیں کہ آپ گریز کی طرف رُخ کریں اور اب آپ کے لیے یہ امر ممکن بھی نہیں۔کیونکہ آپ ان شرائط پیش کردہ کو بغیر اس عذر کے کہ ان کی انجام دہی کی مجھ میں لیاقت نہیں اور کسی صورت سے چھوڑ نہیں سکتے اور خود جیسا کہ آپ اپنے اس خط میں قبول کر چکے ہیں کہ میں نے ہر ایک بات مان لی تو پھر ماننے کے بعد انکار کرنا خلاف وعدہ ہے۔مجھے اس بات سے بھی خوشی ہوئی کہ میری تحریر کے موافق آپ مباہلہ کے لیے بھی تیار ہیں اوراپنی ذات کی نسبت کوئی نشان بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔سبحان اللہ اب تو آپ کچھ رُخ پر آ گئے اگر رسالہ میں کچھ نئے پتھر نہ ڈال دیں۔مگر کیونکر ڈال سکتے ہیں۔آپ کا یہ فقرہ کہ میں آپ کی ہر ایک بات کی اجابت کے لیے مستعد ہوں۔طیار ہوں۔حاضر ہوں۔صاف خوشخبری دے رہا ہے کہ آپ نے میر ی ہر ایک بات اور ہر ایک شرط کو سچے دل سے مان لیا ہے۔اب میں مناسب دیکھتا ہوں کہ اس خوشخبری کو چھپایا نہ جائے بلکہ چھپوایا جائے۔اس لئے معہ آپ کے خط کے اس خط کو چھاپ کر آپ کی خدمت میں نذر کرتا ہوں۔اور اِیفائِ وَعْدَہ کا منتظر ہوں۔وَالسََّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی۔الراقــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــم خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ۱۹؍ اپریل ۱۸۹۳ ء منکرین کے ملزم کرنے کے لئے ایک اور پیشگوئی۔خاص کرشیخ محمد حسین بٹالوی کی توجہ کے لائق ہے ۲۰؍ اپریل ۱۸۹۳ء سے چار مہینہ پہلے صفحہ ۲۲۶۔آئینہ کمالات اسلام میں بقید تاریخ شائع ہو چکا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایک اَور بیٹے کا اس عاجز سے وعدہ کیا ہے جو عنقریب پیدا ہو گا۔اس پیشگوئی