مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 412 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 412

بیکسے شد دین احمد ؐ ہیچ خویش و یارنیست ہر کسے درکار خود بادین احمدؐ کارنیست ہر طرف سیلِ ضلالت صد ہزاران تن ربود حیف بر چشمے کہ اکنون نیز ہم ہشیار نیست اے خدا وندانِ نعمت ایں چنیں غفلت چراست بیخود از خوابید یا خود بختِ دین بیدار نیست اے مسلمانان خدا را یک نظر برحالِ دین آنچہ می بینم بلاہا حاجتِ اظہار نیست آتش افتاد است دررختش بخیزید اے یلان دید نش از دور کارِ مردمِ دیندار نیست ہر زمان از بہرِ دین درخون دلِ من می تپد محرمِ این درد ماجز عالمِ اسرار نیست آنچہ برما می رود از غم کہ داند جُز خدا زہر می نوشیم لیکن زہرہء گفتار نیست ہر کسے غمخواری اہل و اقارب می کند اے دریغ این بیکسی راہیچ کس غمخوار نیست خونِ دین بینم روان چون کشتگانِ کربلا اے عجب ایں مرد مان رامہرآن دلدار نیست حیر تم آید چو بینم بذل شان درکار نفس کاین ہمہ جود و سخاوت در رہِ دا دار نیست اے کہ داری مقدرت ہم عزم تائیداتِ دیں لُطف کن مارا نظر براندک و بسیار نیست ۱؎ ترجمہ اشعار۔(۱)دین احمد بیکس ہو گیا کوئی اس کا غم خوار نہیں ہر شخص اپنے اپنے کام میں مصروف ہے احمد کے دین سے کچھ واسطہ نہیں۔(۲)گمراہی کا سیلاب ہرطرف لاکھوں انسانوں کو بہا کر لے گیا اُس آنکھ پر افسوس جو اب بھی ہشیار نہیں ہوئی۔(۳)اے دولت مندو! اس قدر غفلت کیوں ہے تم ہی نیند سے بے ہوش ہو یا دین کی قسمت سو گئی ہے۔(۴)اے مسلمانو! خدا کے لئے دین کی طرف ایک نظر تو دیکھ لو میں جو بلائیں دیکھ رہا ہوں ان کے اظہار کی حاجت نہیں۔(۵)اے جوانمردو! اٹھو اس کے کپڑوں میں آگ لگ گئی ہے دین داروں کا یہ کام نہیں کہ اسے دور سے دیکھتے رہیں۔(۶)میرا دل دین کی خاطر ہر وقت خون میں تڑپ رہا ہے۔ہمارے اس درد کا واقف خدا کے سوا اور کوئی نہیں۔(۷)غم جو ہم پر گذر رہا ہے اسے خدا کے سوا کون جان سکتا ہے ہم زہر پی رہے ہیں لیکن بولنے کی طاقت نہیں رکھتے۔(۸)ہر شخص اپنے اہل وعیال کی غمخواری کرتا ہے۔مگر افسوس کہ دین بیکس کا کوئی غمخوار نہیں۔(۹)کشتگانِ کربلا کی طرح میں دین کا خون بہتا ہوا دیکھتا ہوں مگر تعجب ہے کہ ان لوگوں کو اس محبوب سے کچھ بھی محبت نہیں۔(۱۰)جب میں نفسانی کاموں میں ان کی سخاوت دیکھتا ہوں تو حیران ہو جاتا ہوں کہ یہ دریا دلی اور سخاوت خدا کی راہ میں نہیں ہے۔(۱۱)اے وہ شخص! جو توفیق بھی رکھتا ہے اور نصرت دین کا ارادہ بھی رکھتا ہے جتنا ہو سکے دے، ہمیں تھوڑے بہت کا خیال نہیں۔