مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 406
ذاتی عظمت اور ہیبت دنوں اوروقتوں کے مقرر کرنے کی محتاج نہیں اس بارے میں تو زمانہ نزول عذاب کی ایک حدمقرر کردینا کافی ہے پھر اگر پیشگوئی فی الواقعہ ایک عظیم الشان ہیبت کے ساتھ ظہورپذیر ہوتو وہ خود دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے اوریہ سارے خیالات اوریہ تمام نکتہ چینیاں جوپیش از وقت دلوں میں پیدا ہوتی ہیں ایسی معدوم ہوجاتی ہیں کہ منصف مزاج اہل الرائے ایک انفعال کے ساتھ اپنی رایوں سے رجوع کرتے ہیں۔ماسوا اس کے یہ عاجز بھی تو قانون قدرت کے تحت میں ہے اگرمیری طرف سے بنیاد اس پیشگوئی کی صرف اسی قدر ہے کہ میں نے صرف یاوہ گوئی کے طورپر چند احتمالی بیماریوں کو ذہن میں رکھ کر اور اٹکل سے کام لے کریہ پیشگوئی شائع کی ہے توجس شخص کی نسبت یہ پیشگوئی ہے وہ بھی توایسا کرسکتا ہے کہ انہی اٹکلوں کی بنیاد پر میری نسبت کوئی پیشگوئی کردے بلکہ میں راضی ہوں کہ بجائے چھ برس کے جو میں نے اس کے حق میں میعاد مقرر کی ہے وہ میرے لئے دس برس لکھ دے لیکھرام کی عمراس وقت شاید زیادہ سے زیادہ تیس برس کی ہوگی اور وہ ایک جوان قوی ہیکل عمدہ صحت کاآدمی ہے اور اس عاجز کی عمراس وقت پچاس برس سے کچھ زیادہ ہے اور ضعیف اور دائم المرض اور طرح طرح کے عوارض میں مبتلا ہے پھرباوجود اس کے مقابلہ میں خود معلوم ہوجائے گا کہ کونسی بات انسان کی طرف سے ہے اورکونسی بات خدا تعالیٰ کی طرف سے۔اور معترض کا یہ کہناکہ ایسی پیشگوئیوں کا اب زمانہ نہیں ہے ایک معمولی فقرہ ہے جواکثر لوگ منہ سے بول دیاکرتے ہیں میری دانست میں تو مضبوط اور کامل صداقتوں کے قبول کرنے کیلئے یہ ایک ایسا زمانہ ہے کہ شائد اسکی نظیرپہلے زمانوں میں کوئی بھی نہ مل سکے۔ہاں اس زمانہ سے کوئی فریب اورمکر مخفی نہیں رہ سکتامگر یہ تو را ستبازوں کیلئے اور بھی خوشی کا مقام ہے کیونکہ جو شخص فریب اورسچ میں فرق کرنا جانتاہے وہی سچائی کی دل سے عزت کرتا ہے اوربخوشی اور دوڑکر سچائی کو قبول کرلیتا ہے اور سچائی میں کچھ ایسی کشش ہوتی ہے کہ وہ آپ قبول کرالیتی ہے۔ظاہر ہے کہ زمانہ صدہا ایسی نئی باتوں کو قبول کرتاجاتا ہے جو لوگوں کے باپ دادوں نے قبول نہیں کی تھیں اگر زمانہ صداقتوں کا پیاسا نہیں تو پھر کیوں ایک عظیم الشان انقلاب اس میں شروع ہے زمانہ بیشک حقیقی صداقتوں کا دوست ہے نہ دشمن اور یہ کہنا کہ زمانہ عقلمند ہے اور