مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 391
مجموعه اشتہارات ۳۹۱ جلد اول (۹) اگر خواهی دلیلی عاشقش باش محمد هست برہان محمد (۱۰) سرے دارم فدائے خاک احمد دلم ہر وقت قربان محمد (11) بگیسوئے رسول اللہ کہ ہستم شار روئے تابان محمد (۱۲) دریں رہ گر کشندم در بسوزند نتابم رو ز ایوان محمد (۱۳) بکار دین مترسم از جهانی که دارم رنگ ایمان محمد (۱۴) بیسے سہل ست از دنیا بریدن بیادِ حُسن و احسان محمد (۱۵) فدا شد در ریش هر ذره من که دیدم حسن پنهان محمد (۱۶) دگر استاد را نامی ندانم که خواندم در دبستان محمد (۱۷) بدیگر دلبرے کارے ندارم که هستم گشته آن محمد (۱۸) مر آن گوشته چشم باید نخواهم 7 گلستان محمد (۱۹) دل زارم به پہلو تم مجوئید که بستیمش بدامان محمد (۲۰) من آن خوش مرغ از مرغانِ قدسم که دارد جا به بستان محمد (۹) اگر تو اُس کی سچائی کی دلیل چاہتا ہے تو اُس کا عاشق بن جا کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی خود محمد کی دلیل ہے۔ (۱۰) میر اسر احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خاک پا پر شار ہے اور میرا دل ہر وقت محمد ﷺ پر قربان رہتا ہے ۔ (۱۱) رسول اللہ کی زلفوں کی قسم کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نورانی چہرے پر فدا ہوں ۔ (۱۲) اس راہ میں اگر مجھے قتل کر دیا جائے یا جلا دیا جاوے تو پھر بھی میں محمدؐ کی بارگاہ سے منہ نہیں پھیروں گا ۔ (۱۳) دین کے معاملہ میں میں سارے جہان سے بھی نہیں ڈرتا کہ مجھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ایمان کا رنگ ہے۔ (۱۴) دنیا سے قطع تعلق کرنا نہایت آسان ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن واحسان کو یاد کر کے ۔ (۱۵) اُس کی راہ میں میرا ہر ذرہ قربان ہے کیونکہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مخفی حسن دیکھ لیا ہے ۔ (۱۶) میں اور کسی استاد کا نام نہیں ، اور کسی استاد کا نام نہیں جانتا میں تو صرف محمد صلی اللہ علیہ و صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مدرسہ کا پڑھا ہوا ہوں ۔ (۱۷) اور کسی محبوب سے مجھے واسطہ نہیں کہ میں تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ناز و ادا کا مقتول ہوں۔ (۱۸) مجھے تو اسی آنکھ کی نظر مہر درکار ہے۔ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے باغ کے سوا اور کچھ نہیں چاہتا (۱۹) میرے زخمی دل کو میرے پہلو میں تلاش نہ کرو کہ اسے تو ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے باندھ دیا ہے۔ (۲۰) میں طائرانِ قدس میں سے وہ اعلیٰ پرندہ ہوں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے باغ میں بسیرا رکھتا ہے۔