مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 366
بادشاہت ہوگی تو پھر انگریز کہاں ہوں گے اور روس کہاں اور جرمن اور فرانس وغیرہ یورپ کی بادشاہتیں کہاں جائیں گی۔حالانکہ مسیح موعود کا عیسائی سلطنتوں کے وقت میں ظاہر ہونا ضروری ہے اور جب مسیح موعود کیلئے یہی ضروری ہے کہ دنیا میں عیسائی طاقتوں کو ہی دنیا پر غالب پاوے۔اور تمام مفاسد کی کنجیاں انہیں کے ہاتھ میں دیکھے انہیں کی صلیبوں کو توڑے اور انہیں کے خنزیروں کو قتل کرے اور انہیں کو اسلام میں داخل کر کے جزیہ کا قصہ تمام کرے۔تو پھر سوچو کہ فرضی دجال کی سلطنت باوجود عیسائی سلطنت کے کیونکر ممکن ہے۔مگر یہ غلط ہے کہ مسیح موعود ظاہری تلوار کے ساتھ آئے گا تعجب کہ یہ علماء یَضَعُ الْحَرْبَ کے کلمہ کو کیوں نہیں سوچتے اور حدیث اَ لْاَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ کو کیوں نہیںپڑھتے پس جب کہ ظاہری سلطنت اور خلافت اور امامت بجز قریش کے کسی کیلئے روا ہی نہیں تو پھر مسیح موعود جو قریش میں سے نہیں ہے کیونکر ظاہری خلیفہ ہوسکتا ہے اور یہ کہنا کہ وہ مہدی سے بیعت کرے گا اور اس کا تابع ہوگا اور نوکروں کی طرح اس کے کہنے سے تلوار اٹھائے گا عجب بے ہودہ باتیں ہیں۔نہیں حضرات خدا تعالیٰ آپ لوگوں کو ہدایت دے مسیح موعود کی روحانی خلافت ہے، دنیا کی بادشاہتوں سے اس کو کچھ تعلق نہیں اس کو آسمانی بادشاہت دی گئی ہے اور آج کل یہ زمانہ بھی نہیں کہ تلوار سے لوگ سچا ایمان لاسکیں۔آج کل تو پہلی تلوار پر ہی نادان لوگ اعتراض کررہے ہیں چہ جائیکہ نئے سرے ان کو تلواروں سے قتل کیا جائے۔ہاں روحانی تلوار کی سخت حاجت ہے سو وہ چلے گی اور کوئی اس کو روک نہیں سکتا اب ہم اس مقدمہ کو ختم کرتے ہیں لیکن ذیل میں ایک روحانی تلوار مخالفوں پر چلا دیتے ہیں اور وہ یہ ہے۔۱؎ (یہ اشتہار آئینہ کمالات اسلام بار اوّل مطبوعہ ریاض ہند پریس قادیان کے صفحہ ۲۶۱ سے ۲۷۱تک ہے) (روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۲۶۱ تا ۲۷۱) ۱؎ یہ اشارہ اس اشتہار کی طرف ہے جو آگے نمبر ۹۳ پر درج ہے۔(مرتب)