مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 363 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 363

 مُباہلہ کے لیے اشتہار اُن تمام مولویوں اور مفتیوں کی خدمت میں جو اس عاجز کو جزئی اختلافات کی وجہ سے یا اپنی نافہمی کے باعث سے کافر ٹھہراتے ہیں عرض کیا جاتا ہے کہ اب میں خدا تعالیٰ سے مامور ہوگیا ہوں کہ تا میں آپ لوگوں سے مباہلہ کرنے کی درخواست کروں اِس طرح پر کہ اوّل آپ کو مجلس مباہلہ میں اپنے عقائد کے دلائل ازروئے قرآن اور حدیث کے سنائوں اگر پھر بھی آپ لوگ تکفیر سے باز نہ آویں تو اسی مجلس میں مباہلہ کروں سو میرے پہلے مخاطب میاں نذیر حسین دہلوی ہیں اور اگر وہ انکار کریں تو پھر شیخ محمد حسین بطالوی اور اگر وہ انکار کریں تو پھر بعد اس کے تمام وہ مولوی صاحبان جو مجھ کو کافر ٹھہراتے اور مسلمانوں میں سرگروہ سمجھے جاتے ہیں۔اور میں ان تمام بزرگوں کو آج کی تاریخ سے جو دہم دسمبر ۱۸۹۲ء ہے چار ماہ تک مہلت دیتا ہوں۔اگر چار ماہ تک ان لوگوں نے مجھ سے بشرائط متذکرہ بالا مباہلہ نہ کیا اور نہ کافر کہنے سے باز آئے تو پھر اللہ تعالیٰ کی حجت ان پر پوری ہوگی۔میں اوّل یہ چاہتا تھا کہ وہ تمام بے جا الزامات جو میری نسبت ان لوگوں نے قائم کر کے موجب کفر قرار دیئے ہیں اس رسالہ میں ان کا جواب شائع کروں لیکن بباعث بیمار ہوجانے کاتب اور حرج واقع ہونے کے ابھی تک وہ حصہ طبع نہیں ہوسکا سو میں مباہلہ کی مجلس میں وہ مضمون بہرحال سنادوں گا اگر اس وقت طبع ہوگیا ہو یا نہ ہوا ہو۔لیکن یاد رہے کہ ہماری طرف سے یہ شرط ضروری ہے کہ تکفیر کے فتویٰ لکھنے والوں نے جو کچھ سمجھا ہے اوّل اس تحریر کی غلطی ظاہر کی جائے اور اپنی طرف سے دلائل شافیہ کے ساتھ اتمام حجت