مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 348
مجموعه اشتہارات ۳۴۸ جلد اول کیا۔ ایسا ہی اس نے اس حقیقت کے متعلق جو جو نوازل و آفات تھے ان سے بھی خالی نہ رکھا لیکن اگر کچھ افسوس ہے تو صرف یہ کہ بٹالوی صاحب کو اس فتویٰ کے طیار کرنے میں یہودیوں کے فقیہوں سے بھی زیادہ خیانت کرنی پڑی اور وہ خیانت تین قسم کی ہے۔ اول یہ کہ بعض لوگ جو مولویت اور فتوی دینے کا منصب نہیں رکھتے وہ صرف مکفرین کی تعداد بڑھانے کیلئے مفتی قرار دیئے گئے ۔ دوسری یہ کہ بعض ایسے لوگ جو علم سے خالی اور علانیہ فسق و فجور بلکہ نہایت بدکاریوں میں مبتلا تھے وہ بڑے عالم متشرع متصور ہو کر ان کی مہریں لگائی گئیں ۔ تیسرے ایسے لوگ جو علم اور دیانت رکھتے تھے مگر واقعی طور پر اس فتوے پر انہوں نے مہر نہیں لگائی بلکہ بٹالوی صاحب نے سراسر چالا کی اور افترا سے خود بخودان کا نام اس میں جڑ دیا۔ ان تینوں قسم کے لوگوں کے بارے میں ہمارے پاس تحریری ثبوت ہیں اگر بٹالوی صاحب یا کسی اور صاحب کو اس میں شک ہو تو وہ لاہور میں ایک جلسہ منعقد کر کے ہم سے ثبوت مانگیں ۔ تاسیہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد۔ یوں تو تکفیر کوئی نئی بات نہیں ان مولویوں کا آبائی طریق یہی چلا آتا ہے کہ یہ لوگ ایک بار یک بات سن کر فی الفور اپنے کپڑوں سے باہر ہو جاتے ہیں اور چونکہ خدائے تعالیٰ نے یہ عقل تو ان کو دی ہی نہیں کہ بات کی تہہ تک پہنچیں اور اسرار غامضہ کی گہری حقیقت کو دریافت کر سکیں اس لئے اپنی نافہمی کی حالت میں تکفیر کی طرف دوڑتے ہیں اور اولیاء کرام میں سے ایک بھی ایسا نہیں کہ ان کی تکفیر سے باہر رہا ہو۔ یہاں تک کہ اپنے منہ سے کہتے ہیں کہ جب مہدی موعود آئے گا تو اس کی بھی مولوی لوگ تکفیر کریں گے اور ایسا ہی حضرت عیسیٰ جب اتریں گے تو ان کی بھی تکفیر ہوگی ۔ ان باتوں کا جواب یہی ہے کہ اے حضرات ! آپ لوگوں سے خدا کی پناہ ۔ اُو سُبْحَانَه خود اپنے برگزیدہ بندوں کو آپ لوگوں کے شر سے بچاتا آیا ہے ورنہ آپ لوگوں نے تو ڈائن کی طرح امت محمدیہ کے تمام اولیاء کرام کو کھا جانا چاہا تھا اور اپنی بد زبانی سے نہ پہلوں کو چھوڑا نہ پچھلوں کو۔ اور اپنے ہاتھ سے ان نشانیوں کو پوری کر رہے ہیں جو آپ ہی بتلارہے ہیں۔ تعجب کہ یہ لوگ آپس میں بھی تو نیک ظن نہیں