مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 330
کی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ ان لفظوں سے ناراض ہیں اور ان کے دلوں پر یہ الفاظ شاق ہیں تو وہ ان الفاظ کو ترمیم شدہ تصور فرما کر بجائے اس کے محدّث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں۔کیونکہ کسی طرح مجھ کو مسلمانوں میں تفرقہ اور نفاق ڈالنا منظور نہیں ہے۔جس حالت میں ابتداء سے میری نیّت میں جس کو اللہ جَلَّ شَانُـہٗ خوب جانتا ہے اس لفظ نبی سے مُراد نبوت حقیقی نہیں ہے بلکہ صرف محدّث مُراد ہے جس کے معنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مُکَلََّم مراد لئے ہیں۔یعنی محدثوں کی نسبت فرمایا ہے۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ، قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ کَانَ فِیْمَنْ قَبْلَکُمْ مِنْ بَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ رِجَالٌ یُکَلِّمُوْنَ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَّکُوْنُوْا اَنْبِیَآئَ فَاِنْ یَّکُ فِیْ اُمَّتِیْ مِنْھُمْ اَحَدٌ فَعُمَرُ۔صحیح بخاری جلد اوّل صفحہ ۵۲۱ پارہ ۱۴ باب مناقب عمرؓ۔تو پھر مجھے اپنے مسلمان بھائیوں کی دلجوئی کے لیے اس لفظ کو دوسرے پیرایہ میں بیان کرنے سے کیا عذر ہو سکتا ہے۔سو دوسرا پیرایہ یہ ہے کہ بجائے لفظ نبی کے محدّث کا لفظ ہر ایک جگہ سمجھ لیں اور اس کو (یعنی لفظ نبی کو) کاٹا ہوا خیال فرما لیں۔اور نیز عنقریب یہ عاجز ایک رسالہ مستقلہ نکالنے والا ہے۔جس میں ان شبہات کی تفصیل اور بسط سے تشریح کی جائے گی جو میری کتابوں کے پڑھنے والوں کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں اور میری بعض تحریرات کو خلاف عقیدہ اہلِ سنت و الجماعت خیال کرتے ہیں۔سو مَیں انشاء اللہ تعالیٰ عنقریب ان اوہام کے ازالہ کے لیے پوری تشریح کے ساتھ اس رسالہ میں لکھ دوں گا اور مطابق اہل سُنّت و الجماعت کے بیان کر دوں گا۔راقــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــم خاکسار میرزا غلام احمد قادیانی مؤلّف رسالہ توضیح مرام و ازالۃ الاوہام ۳؍ فروری ۱۸۹۲ ء (محمدی پریس لاہور) غلام نبی سنگ ساز و کاتب (تبلیغ رسالت جلد ۲ صفحہ۴ ۹ تا ۹۶)