مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 329
مجموعه اشتہارات ۳۲۹ M جلد اول بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ جو مباحثہ لاہور میں مولوی عبد الحکیم صاحب اور مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے درمیان چند روز سے بابت مسئلہ دعوئے نبوت مندرجہ کتب مرزا صاحب کے ہو رہا تھا۔ آج مولوی صاحب کی طرف سے تیسرا پرچہ جواب الجواب کے جواب میں لکھا جا رہا تھا۔ اثنائے تحریر میں مرزا صاحب کی عبارت مندرجہ ذیل کے بیان کرنے پر جلسہ عام میں فیصلہ ہو گیا جو عبارت درج ذیل ہے۔ المرقوم ۳ فروری ۱۸۹۲ء مطابق ۳ رجب ۱۳۰۹ھ العبد برکت علی وکیل چیف کورٹ پنجاب محی الدین المعروف صوفی العبد العبد العبد العبد خاکسار رحیم بخش العبد العبد فضل دین العبد ابو یوسف محمد مبارک علی حبیب اللہ (४४2020 رحیم اللہ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَ الصَّلوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِهِ خَاتَمَ النَّبِيِّين - اما بعد تمام مسلمانوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ اس عاجز کے رسالہ فتح الاسلام و توضیح مرام وازالہ اوہام میں جس قدر ایسے الفاظ موجود ہیں کہ محدث ایک معنی میں نبی ہوتا ہے یا یہ کہ محد ثیت جزوی نبوت ہے یا یہ کہ محدثیت نبوت نا قصہ ہے۔ یہ تمام الفاظ حقیقی معنوں پر محمول نہیں ہیں بلکہ صرف سادگی سے اس کے لغوی معنوں کے رو سے بیان کئے گئے ہیں ۔ ورنہ حَاشَا وَ كَلَّا ۔ مجھے نبوت حقیقی کا ہر گز دعوی نہیں ہے بلکہ جیسا کہ میں کتاب ازالہ اوہام کے صفحہ ۱۳۷ میں لکھ چکا ہوں۔ میرا اس بات پر ایمان ہے کہ ہمارے سید و مولی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں۔ سو میں تمام مسلمان بھائیوں