مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 322 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 322

اس عاجز کی طرف بھیجا ہے جس کی عبارت کسی قدر نیچے لکھی جاتی ہے اور وہ یہ ہے۔خاکسار نابکار نور الدین بحضور خدّام والا مقام حضرت مسیح الزمان سَلَّمَہُ الرَّحْمٰن۔اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُـہٗ کے بعد بکمال ادب عرض پرداز ہے۔غریب نواز۔پر یروز ایک عرضی خدمت میں روانہ کی اس کے بعد یہاں جموں میں ایک عجیب طوفانِ بے تمیزی کی خبر پہنچی جس کو بضرورت تفصیل کے ساتھ لکھنا مناسب سمجھتاہوں۔ازالہ اوہام ۱؎ میں حضور والا نے ڈاکٹر جگن ناتھ کی نسبت ارقام فرمایا ہے کہ وہ گریز کر گئے اب ڈاکٹر صاحب نے بہت سے ایسے لوگوں کو جو اس معاملہ سے آگاہ تھے کہا ہے۔سیاہی سے یہ بات لکھی گئی ہے سرخی سے اس پر قلم پھیر دو میں نے ہرگز گریز نہیں کیا اور نہ کسی نشان کی تخصیص چاہی مردہ کا زندہ کرنا میں نہیں چاہتا اور نہ خشک درخت کا ہرا ہونا۔یعنی بلا تخصیص کوئی نشان چاہتا ہوں جو انسانی طاقت سے بالاتر ہو۔اب ناظرین پر واضح ہو کہ پہلے ڈاکٹر صاحب موصوف نے اپنے ایک خط میں نشانوں کو تخصیص کے ساتھ طلب کیا تھا جیسے مردہ زندہ کرنا وغیرہ اس پر ان کی خدمت میں خط لکھا گیا کہ تخصیص ناجائز ہے خدائے تعالیٰ اپنے ارادہ اور اپنے مصالح کے موافق نشان ظاہر کرتا ہے اور جب کہ نشان کہتے ہی اس کو ہیں کہ جو انسانی طاقتوں سے بالاتر ہوتو پھر تخصیص کی کیا حاجت ہے۔کسی نشان کے آزمانے کیلئے یہی طریق کافی ہے کہ انسانی طاقتیں ا س کی نظیر پیدا نہ کرسکیں اس خط کا جواب ڈاکٹر صاحب نے کوئی نہیں دیا تھا اب پھر ۱؎ یہ ذکر ازالہ اوہام حصہ دوم ایڈیشن اول کے صفحہ ۷۷۹ پر ہے۔(مرتب)