مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 321
ڈاکٹر جگننا۱؎تھ صاحب ملازم ریاست جموں کو آسمانی نشانوں کی طرف دعوت میرے مخلص دوست اور للّہی رفیق اخویم حضرت مولوی حکیم نورِ دین صاحب فانی فی ابتغائِ مرضاتِ ربّانی ملازم و معالج ریاست جموں نے ایک عنایت نامہ۲؎ مورخہ ۷ ؍جنوری ۱۸۹۲ء ۱؎ چونکہ یہ اشتہار حضرت اقدس علیہ السلام نے جلی لکھا تھا اس لئے جلی نقل کیا گیا (مرتب ) ۲؎ نوٹ۔حضرت مولوی صاحب کے محبت نامہ موصوفہ کے چند فقرہ لکھتا ہوں غور سے پڑھنا چاہیے تا معلوم ہو کہ کہاں تک رحمانی فضل سے ان کو انشراح صدر و صدق قدم و یقین کامل عطا کیا گیا ہے اور وہ فقرات یہ ہیں۔’’عالی جناب مرزا جی مجھے اپنے قدموں میں جگہ دو۔اللہ کی رضا مندی چاہتا ہوں اور جس طرح وہ راضی ہوسکے طیار ہوں اگر آپ کے مشن کو انسانی خون کی آبپاشی ضرور ہے تو یہ نابکار(مگر محب انسان) چاہتا ہے کہ اس کام میں کام آوے‘‘۔تَمَّ کَلَامُہٗ جَزَاہُ اللّٰہٗ۔حضرت مولوی صاحب جو انکسار اور ادب اور ایثار مال و عزت اور جان فشانی میں فانی ہیں وہ خود نہیں بولتے بلکہ ان کی روح بول رہی ہے۔درحقیقت ہم اسی وقت سچے بندے ٹھہر سکتے ہیں کہ جو خداوند منعم نے ہمیں دیا ہم اس کو واپس دیں یا واپس دینے کیلئے تیار ہوجائیں۔ہماری جان اس کی امانت ہے اور وہ فرماتا ہے کہ اَنْ ۔۳؎ سرکہ نہ درپائے عزیزش رود بارِگران ست کشیدن بدوش۴؎ منہ ۳؎ النساء: ۵۹ ۴؎ ترجمہ۔وہ سر جو محبوب کے قدموں میں قربان نہ ہو اسے کندھوں پر اٹھائے رکھنا ایک بار گراں ہے۔