مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 316
مجموعه اشتہارات ۳۱۶ جلد اول کی تجلی دکھلا دیتا ہے تو پھر انبیاء کا تمثل اُس پر کیا مشکل ہے اب جب کہ یہ بات ہے تو فرض کے طور پر اگر مان لیں کہ کسی کو آنحضرت صلعم کی زیارت ہوئی تو اس بات پر کیونکر مطمئن ہوں کہ وہ زیارت در حقیقت آنحضرت صلعم کی ہے کیونکہ اس زمانہ کے لوگوں کو ٹھیک ٹھیک حلیہ نبوی پر اطلاع نہیں اور غیر حلیہ پر تمثل شیطان جائز ہے پس اس زمانہ کے لوگوں کے لئے زیارت حقہ کی حقیقی علامت یہ ہے کہ اُس زیارت کے ساتھ بعض ایسے خوارق اور علامات خاصہ بھی ہوں جن کی وجہ سے اُس رویا یا کشف کے منجانب اللہ ہونے پر یقین کیا جائے مثلاً رسول اللہ صلعم بعض بشارتیں پیش از وقوع بتلا دیں یا بعض قضا و قدر کے نزول کی باتیں پیش از وقوع مطلع کر دیں یا بعض دعاؤں کی قبولیت سے پیش از وقت اطلاع دے دیں یا قرآن کریم کی بعض آیات کے ایسے حقائق و معارف بتلادیں جو پہلے قلم بنداور شائع نہیں ہو چکے تو بلا شبہ ایسی خواب صحیح سمجھی جاوے گی۔ ورنہ اگر ایک شخص دعوی کرے جو رسول اللہ صلعم میری خواب میں آئے ہیں اور کہہ گئے ہیں کہ فلاں شخص بے شک کا فر اور دجال ہے اب اس بات کا کون فیصلہ کرے کہ یہ رسول اللہ صلعم کا قول ہے یا شیطان کا یا خود اس خواب بین نے چالا کی کی راہ سے یہ خواب اپنی طرف سے بنالی ہے سواگر میر صاحب میں در حقیقت یہ قدرت حاصل ہے کہ رسول اللہ صلعم ان کی خواب میں آ جاتے ہیں تو ہم میر صاحب کو یہ تکلیف دینا نہیں چاہتے کہ وہ ضرور ہمیں دکھا دیں بلکہ وہ اگر اپنا ہی دیکھنا ثابت کر دیں اور علامات اربعہ مذکورہ بالا کے ذریعہ سے اس بات کو بیپایہ ثبوت پہنچادیں کہ در حقیقت انہوں نے آنحضرت صلعم کو دیکھا ہے تو ہم قبول کر لیں گے اور اگر انہیں مقابلہ کا ہی شوق ہے تو اس سیدھے طور سے مقابلہ کریں جس کا ہم نے اس اشتہار میں ذکر کیا ہے ہمیں بالفعل ان کی رسول بینی میں ہی کلام ہے چہ جائیکہ ان کی رسول نمائی کے دعوی کو قبول کیا جائے پہلا مرتبہ آزمائش کا تو یہی ہے کہ آیا میر صاحب رسول بینی کے دعوی میں صادق ہیں یا کا ذب اگر صادق ہیں تو پھر اپنی کوئی خواب یا کشف شائع کریں جس میں یہ بیان ہو کہ رسول اللہ صلعم کی زیارت ہوئی اور آپ نے اپنی زیارت کی علامت فلاں فلاں پیشگوئی اور قبولیت دعا اور انکشاف حقائق و معارف کو بیان فرمایا پھر بعد اس کے رسول نمائی کی دعوت کریں اور یہ عاجز حق کی تائید کی غرض سے اس بات کے لئے