مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 312
مجموعه اشتہارات ۳۱۲ جلد اول ثابت قدم ہے متزلزل نہیں تو کیا اس الہام کو خلاف واقعہ کہا جائے گا بہت سے الہامات صرف موجودہ حالات کے آئینہ ہوتے ہیں عواقب امور سے ان کو کچھ تعلق نہیں ہوتا اور نیز یہ بات بھی ہے کہ جب تک انسان زندہ ہے اس کے سوءِ خاتمہ پر حکم نہیں کر سکتے کیونکہ انسان کا دل اللہ جل شانہ کے قبضہ میں ہے میر صاحب تو میر صاحب ہیں اگر وہ چاہے تو دنیا کے ایک بڑے سنگدل اور مختوم القلب آدمی کو ایک دم میں حق کی طرف پھیر سکتا ہے۔ غرض یہ الہام حال پر دلالت کرتا ہے مال پر ضروری طور پر اس کی دلالت نہیں ہے اور مال ابھی ظاہر بھی نہیں ہے بہتوں نے راست بازوں کو چھوڑ دیا اور پکے دشمن بن گئے مگر بعد میں پھر کوئی کرشمہ قدرت دیکھ کر پشیمان ہوئے اور زار زار روئے اور اپنے گناہ کا اقرار کیا اور رجوع لائے۔ انسان کا دل خدائے تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور اس حکیم مطلق کی آزمائشیں ہمیشہ ساتھ لگی ہوئی ہیں۔ سو میر صاحب اپنی کسی پوشیدہ خامی اور نقص کی وجہ سے آزمائش میں پڑ گئے اور پھر اس ابتلا کے اثر سے جوش ارادت کے عوض میں قبض پیدا ہوئی اور پھر قبض سے خشکی او را اور اجنبیت اور اجنبیت سے ترک ادب اور ترک ادب سے ختم علی القلب اور ختم علی القلب سے جہری عداوت اور ارادہ تحقیر واستحقاق و تو ہین پیدا ہوگیا۔ عبرت کی جگہ ہے کہ کہاں سے کہاں پہنچے۔ کیا کسی کے وہم یا خیال میں تھا کہ میر عباس علی کا یہ حال ہوگا ۔ مالک الملک جو چاہتا ہے کرتا ہے میرے دوستوں کو چاہیے کہ ان کے حق میں دعا کریں اور اپنے بھائی فروماندہ اور درگذشتہ کو اپنی ہمدردی سے محروم نہ رکھیں اور میں بھی انشاء اللہ الکریم دعا کروں گا۔ میں چاہتا تھا کہ ان کے چند خطوط بطور نمونہ اس رسالہ میں نقل کر کے لوگوں پر ظاہر کروں کہ میر عباس علی کا اخلاص کسی درجہ پر پہنچا تھا اور کس طور کی خوا ہیں وہ ہمیشہ ظاہر کیا کرتے تھے اور کن انکساری کے الفاظ اور تعظیم کے الفاظ سے وہ خط لکھتے تھے لیکن افسوس کہ اس مختصر رسالہ میں گنجائش نہیں انشاء اللہ القدیر کسی دوسرے وقت میں حسب ضرورت ظاہر کیا جائے گا۔ یہ انسان کے تغیرات کا ایک نمونہ ہے کہ وہ شخص جس کے دل پر ہر وقت عظمت اور ہیبت سچی ارادت کی طاری رہتی تھی اور اپنے خطوط میں اس عاجز کی نسبت خلیفۃ اللہ فی الارض لکھا کرتا تھا آج لے نقل بمطابق اصل سہو کتابت معلوم ہوتا ہے۔ سیاق کلام سے درست لفظ استخفاف ہے ۔ واللہ اعلم (ناشر)