مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 310
مجموعه اشتہارات جلد اول میر عباس علی صاحب لدھانوی چوبشنوی سخن اهل دل مگو که خطا است سخن شناس به دلبرا خطا اینجا است لی یہ میر صاحب وہی حضرت ہیں جن کا ذکر بالخیر میں نے ازالہ اوہام ۔ کے صفحہ ۷۹۰ میں بیعت کرنے والوں کی جماعت میں لکھا ہے افسوس کہ وہ بعض موسوسین کی وسوسہ اندازی سے سخت لغزش میں آ گئے بلکہ جماعت اعدا میں داخل ہو گئے ۔ بعض لوگ تعجب کریں گے کہ ان کی نسبت تو الہام ہوا تھا کہ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ اس کا یہ جواب ہے کہ الہام کے صرف اس قدر معنی ہیں کہ اصل اُس کا ثابت ہے اور آسمان میں اُس کی شاخ ہے اس میں تصریح نہیں ہے کہ وہ باعتبار ا پنی اصل فطرت کے کس بات پر ثابت ہیں بلا شبہ یہ بات ماننے کے لائق ہے کہ انسان میں کوئی نہ کوئی فطرتی خوبی ہوتی ہے جس پر وہ ہمیشہ ثابت اور مستقل رہتا ہے اور اگر ایک کا فرکفر سے اسلام کی طرف انتقال کرے تو وہ فطرتی خوبی ساتھ ہی لاتا ہے اور اگر پھر اسلام سے کفر کی طرف انتقال کرے تو اس خوبی کو ساتھ ہی لے جاتا ہے کیونکہ فطرت اللہ اور خلق اللہ میں تبدل اور تغیر نہیں افراد نوع انسان مختلف طور کی کانوں کی طرح ہیں کوئی سونے کی کان ، کوئی چاندی کی کان ، کوئی پیتل کی کان، پس اگر اس الہام میں میر صاحب کی کسی فطرتی خوبی کا ذکر ہو جو غیر متبدل ہو تو کچھ عجب نہیں اور نہ کچھ اعتراض کی بات ہے بلا شبہ یہ مسلّم مسئلہ ہے کہ مسلمان تو مسلمان ہیں کفار میں بھی بعض فطرتی خوبیاں ہوتی ہیں اور بعض لے ترجمہ۔ جب تو دل والوں کی کوئی بات سنے تو مت کہہ اٹھ کہ غلط ہے اے عزیز ! تو بات نہیں سمجھ سکتا غلطی تو یہی ہے۔