مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 308 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 308

تقریر میں سمجھایا گیا کہ حضرت مسیح کی دو موتیں قرآن کریم اور حدیث سے ثابت نہیں ہوتیں بلکہ وہ ایک ہی دفعہ مر کر خدا تعالیٰ کی طرف انتقال کر گئے اور فوت شدہ انبیاء میں جا ملے اور دوبارہ دنیا میں وہ آنہیں سکتے کیونکہ اگر دوبارہ دنیا میں آویں تو پھر یہ دعویٰ قرآن کریم کے مخالف ہو گا اور کئی دلائل سے اُن کو سمجھا دیا گیا کہ حضرت عیسیٰ حقیقت میں فوت ہو چکے ہیں۔اب دوبارہ دنیا میں ان کا آنا تجویز کرنا گویا قرآن کریم اور احادیث نبویہ کو چھوڑ دینا ہے، لیکن مولوی صاحب یا تو اُن دلائل کو سمجھ نہیں سکے یا عمداً حق پوشی کی راہ سے اس کی مخالف اشاعت کرنا انہو ں نے اپنی دنیوی مصلحت قرار دے دیا ہو گا۔چنانچہ سُنا گیا ہے کہ ان کے بعض دوستوں نے عام طور پر شہر پٹیالہ میں شائع کر دیا کہ گویا مولوی صاحب اپنی اُس تقریر میں جو اس عاجز سے کی تھی فتحیاب ہوئے۔چونکہ معلوم ہوتا ہے کہ اس خلاف واقعہ تقریر کا پٹیالہ کے عوام پر بداثر پڑے گا۔اور شاید وہ اس مفتریانہ تقریر کو سُن کر یہ سمجھ بیٹھے ہوں گے کہ درحقیقت مولوی صاحب نے فتح پا لی ہے۔لہٰذا مولوی محمد اسحق صاحب کو مخاطب کر کے اشتہار ہذا شائع کیا جاتا ہے کہ ہریک خاص و عام کو اطلاع رہے کہ جو بیان مولوی صاحب کی طرف سے شائع ہوا ہے وہ محض غلط ہے۔حق بات یہ ہے کہ ۳۰؍ اکتوبر کی تقریر میں مولوی صاحب ہی مغلوب تھے اور ہمارے شافی و کافی دلائل کا مولوی صاحب ایک ذرا جواب نہیں دے سکے۔اگر ہمارا یہ بیان مولوی صاحب کے نزدیک خلاف واقعہ ہے تو مولوی صاحب پر فرض ہے کہ اس اشتہار کے شائع ہونے کے بعدایک جلسہ بحث مقرر کر کے اس مسئلہ حیات و وفات مسیح میں اس عاجز سے بحث کر لیں اور اگر بحث نہ کریں تو پھر ہریک منصف کو سمجھنا چاہیے کہ وہ گریز کر گئے۔شرائط بحث بہ تفصیل ذیل ہوں گے۔(۱) حیات و وفات مسیح ابن مریم کے بارہ میں بحث ہو گی (۲) بحث تحریری ہو گی یعنی دو کاتب ہماری طرف سے اور دو کاتب مولوی صاحب کی طرف سے اپنی اپنی نوبت پر بیانات قلم بند کرتے جائیں گے۔اور ہریک فریق ایک ایک نقل دستخطی اپنے فریق ثانی کو دے دے گا۔پرچے بحث کے تین ہوں گے۔مولوی صاحب کی طرف سے بوجہ مدعی حیات ہونے کے پہلا پرچہ ہو گا۔پھر ہماری طرف سے اس کا جواب ہو گا۔تحریری بحث سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ فریقین کے بیانات محفوظ رہتے ہیں