مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 285 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 285

میرے ساتھ اِظْہَارًا لِلْحَقّ بحث کیجیے۔آپ کو اس بحث میں کچھ تکلیف نہیں ہو گی۔اگر کوئی عدالت گورنمنٹ برطانیہ کی کسی دنیوی مقدمہ میں آپ سے کسی امر میں اظہار لینا چاہے تو آپ جس قدر عدالت چاہے ایک مبسوط بیان لکھوا سکتے ہیں۔بلکہ بلا توقف تاریخ مقررہ پر حاضر ہو جائیں گے۔اور بڑی شدّومد سے اظہار دیں گے۔مَاشَائَ اللّٰہ درس قرآن و حدیث روز جاری ہے۔آواز بلند ہے۔طاقتیں قائم ہیں۔اور آپ کو بوجہ توغل زمانہ دراز کے احادیث نبویہ و قرآن کریم حفظ کی طرح یاد ہیں۔کوئی محنت اور فکر سوچ کا کام نہیں۔تو پھر خدائے تعالیٰ کی عدالت سے کیوں نہیں ڈرتے اور سچی شہادت کو کیوں پیٹ میں دبائے بیٹھے ہیں؟ اور کیوں کچے عذر اور حیلے و بہانے کر رہے ہیں کہ بحث کرنے سے مجبور ہوں؟ شیخ محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبد المجید میری طرف سے بحث کریں گے۔حضرت مجھے آپ کا وہ خط ۱؎ دیکھ کر کہ میں بحث کرنا نہیں چاہتا دوسرں سے کرو، رونا آیا، کیسا زمانہ آ گیا کہ آج کل کے اکثر علماء فتنہ ڈالنے کے لیے تو آگے اور اصلاح کے کاموں میں پیچھے ہٹتے ہیں۔اگر ایسے نازک وقت میں آپ اپنے وسیع معلومات سے مسلمانوں کو فائدہ نہیں پہنچائیں گے تو کیا وہ معلومات آپ قبر میں لے جائیں گے؟ آپ بقول بٹالوی صاحب شیخ الکل ہیں۔شیخ الکل ہونے کا دعویٰ کچھ چھوٹادعویٰ نہیں۔گویا آپ سارے جہاں کے مقتدا ہیں۔اور بٹالوی اور عبد المجید جیسے آپ کے ہزاروں شاگرد ہوں گے۔اگر بٹالوی صاحب کو ایک مرتبہ نہیں ہزار مرتبہ ساکت کر دیا جائے۔تو اس کا کیا اثر ہو گا؟ وہ شیخ الکل تو نہیں۔غرض دنیا کی آپ پر نظر ہے۔یقیناسمجھو کہ اگر آپ نے اس بارے میں بذاتِ خود بحث نہ کی تو خدا تعالیٰ سے ضرور پوچھے جائو گے۔لبِ بام کی حالت ہے۔خدا تعالیٰ سے ڈرو۔سفر آخرت بہت نزدیک ہے۔اگر حق کو چھپائو گے تو ربّ منتقم کے اخذ شدید سے ہرگز نہیں بچو گے۔آپ کو بٹالوی شیخ کے منصوبوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔وہ حضرت اس فطرت کے ہی آدمی نہیں کہ جو آپ کو محض للّٰہبحث کرنے کے لیے صلاح دیویں۔ہاں ایسے کام ان کو بخوبی آتے ہیں کہ فرضی ۱؎ خط۔بمطالعہ گرامی مرزا غلام احمد صاحب قادیانی۔بعد سلام مسنون۔آپ کے خط دیر وزہ کا جواب میری طرف سے میرے تلامذہ مولوی عبد المجید صاحب اور مولوی ابو سعید محمد حسین دیں گے۔آیندہ آپ مجھے اپنے جواب سے معاف رکھیں جو کچھ کہنا ہو انہیں سے کہیں اور ان ہی سے جواب لیں۔راقم سیّد محمد نذیر حسین۔۱۳؍ اکتوبر ۹۱ ء