مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 7
جو چیز موجود ہوگی وہ کسی نہ کسی گنتی میں ضرور داخل ہو گی اور کسی قدر کم کرنے سے ضرور کم ہوجائے گی۔دیکھو ہمارے جیو جو ہمارے شریر (جسم۔ناقل) میں داخل ہیں یہ بھی بقول تمہارے انادی ہیں۔اگر ہم کسی جگہ چار جیو بیٹھے ہوں اور بعد اس کے ہم میں سے ایک جیو اٹھ کرباہر چلا جاوے تو ضرور ہم باقی تین جیو رہ جائیں گے اوراگرہم میں سے کوئی نہ اُٹھے گا اور ایک اور جیو آ بیٹھے گا تو ہم پانچ جیو ہو جائیں گے۔بعض لوگ یہ کہتے ہیں جوخدا کا حدّ انتہا کچھ نہیں ہے اس سے ثابت ہوا کہ روح بے انت ہیں۔اُن حضرات کی خدمت میں یہ عرض ہے کہ بحث تو اس امر میں ہے جو کوئی چیزموجود ہو کر شمار سے باہر نہیںرہ سکتی۔خدا کے طول عرض سے اس بحث کوکیا علاقہ ہے اور خدابھی تو شمار سے باہر نہیں اور نہ خدا شمار سے مستثنیٰ ہے۔انہیں حضرات کا یہ بھی وسواس (خیال۔ناقل) ہے کہ خدا بوڑھا نہیں ہوتا، اس کو موت نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ رُوح بے انت ہیں۔ہماری طرف سے یہ گزارش ہے (کہ) جو ایسی اوٹ پٹانگ باتیں کرنی عقلمندوں کا کام نہیں۔بھلا کوئی عاقل خیال کرے کہ موجودات میں کے شمار میں خدا کے بوڑھا جو ان ہونے کا کیا دخل ہے۔ہماری کلام تو صرف شمار میں ہے۔سو ہم بار بار عرض کرتے ہیں جوخدا بھی شمار سے باہر نہیں۔ایک ہے اور نہ کوئی اور موجود تعداد سے باہر ہو سکتا ہے۔جیسا ہم نے ثابت کر دیا۔مجیب صاحبوں کے ایسے ایسے عجیب جواب ہیں جو حقیقت میں اس لائق ہیں جو ایک ایک نقل ان کی برٹش انڈیا کے کُل عجائب گھروں میں رکھی جائے۔المعترض۔مرزا غلام احمد رئیس قادیان