مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 249
اس وجہ سے کہ ان کے نزدیک ہم نے کوئی حوالہ غلط دیا ہے۔افسوس مولوی صاحب آغاز مضمون سے ہی تردیدی نوٹوں کی تحریر میں مصروف ہو گئے اور مضمون کی خوبیوں پر تدبر سے غور کرنے کا انہیں بیقرار اور پُرجوش طبیعت نے ذرّہ بھی موقع نہ دیا۔ورنہ بے سوچے سمجھے انہیں طلاقوں کی ضرورت نہ پڑتی۔اور یوں عوام میں اپنی مستورہ بیویوں کی ہتک حرمت کے الفاظ منہ سے نکال کر سبکی نہ اُٹھاتے۔اب پبلک کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ اب اس کارروائی کی نسبت جو کچھ وہ مشتہر کریں گے۔محض اپنی بد نامی اور فضیحت ۱؎ کا داغ دھونے کے لیے ایک واویلا اور نوحہ ہو گا۔یہ ان کی ساری بیہودہ باتیں ہیں۔تا عوام پر جو ان کی حقیقت کھل گئی ہے اس پر کسی طرح پردہ پڑ جائے۔وہ اصل مطلب (حیات و ممات مسیح) پر میرے ساتھ کیوں بحث نہیں کرتے؟ وہ یقینا ڈرتے ہیں کہ اگر اصل مسئلہ میں بحث شروع ہو گی تو بڑی رسوائی کے ساتھ انہیں مغلوب ہونا پڑے گا۔ہاں ناظرین پر واضح رہے کہ ہم نے اپنے آخری مضمون کی جو ۳۱؍ جولائی ۱۸۹۱ء کو بروز جمعہ پڑھا گیا تھا۔مولوی صاحب کو نقل نہیں دی۔کیونکہ مولوی صاحب بباعث ارتکاب جریمہ عہد شکنی و ترکِ تہذیب اور توڑ دینے تمام شرطوں کے اپنے تمام حقوق کو اپنی ہی کر توت کی وجہ سے کھو بیٹھے۔حاضرین جو قریباً تین سو کے موجود ہو گئے تھے جن میں بعض معزز رئیسِ شہر اور صاحبان اڈیٹر اخبار پنجاب گزٹ سیالکوٹ اور نور افشاں لودیانہ بھی تھے اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ مولوی صاحب بے صبر ہو کر برخلافِ شرط قرار یافتہ اس عاجز کے مضمون پڑھتے وقت چپ رہ کر سُن نہیں سکے اور مضمون سننے کے بعد بھی اُن کی زبان اُن سے رُک نہیں سکی۔اور جوش میں آکر ان تمام شرطوں کو ۱؎ مباحثہ سے پیشتر مولوی صاحب کے بعض خیر خواہوں، خصوصاً حافظ محمد یوسف٭صاحب ضلعدار نہر نے یہ خواب دیکھا تھا کہ مولوی صاحب کی ٹانگ خشک ہو گئی اور مولوی صاحب حقہ پیتے تھے۔اور میاں عبد الحکیم خان صاحب نے بروایت منشی عبد الغنی صاحب برادر منشی نجف علی صاحب نے ہمارے پاس بیان کیا تھا کہ خود مولوی صاحب نے اپنی ٹانگ کو خواب میں خشک ہوتے دیکھا۔ان خوابوں کی تعبیر یہی تھی کہ مولوی صاحب حق کی مخالفت کریں گے مگر خفت ناکامی اور زک اُٹھائیں گے۔٭ یہ صاحب ضلعدار ضلع لاہورہیں جو مرد صالح اور مولوی محمد حسین صاحب کے دوست ہیں۔