مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 223 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 223

کے متعلق ارسال فرمایا تھا وہ ضمیمہ اخبار پنجاب گزٹ سیالکوٹ مورخہ ۲۵؍ اپریل ۱۸۹۱ء میں شائع ہوا ہے اس لیے مناسب جان کر اس خط کو بھی یہاں نقل کر دیا جاتا ہے تا کہ محفوظ ہو جائے۔(مرتب)  نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ از عاجز عَائِذ بِاللّٰہِ الصَّمَدْ غلام احمد عافاہ اللّٰہ … بخدمت اخویم مولوی محمد حسین صاحب اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُـہٗ۔آپ کا تار جس میں یہ لکھا تھا کہ تمہارے وکیل بھاگ گئے ان کو لوٹاؤ یا آپ آؤ ورنہ شکست یافتہ سمجھے جائو گے پہنچا۔اے عزیز شکست اور فتح خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے فتح مند کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے شکست دیتا ہے۔کون جانتا ہے کہ واقعی طور پر فتح مند کون ہونیوالا ہے اور شکست کھانے والا کون ہے۔جو آسمان پر قرار پا گیا وہی زمین پر ہو گا گو دیر سے سہی لیکن اس عاجز کو تعجب ہے کہ آپ نے کیونکر گمان کر لیا کہ محبی فی اللہ مولوی حکیم نور الدین صاحب آپ سے بھاگ کر چلے آئے۔آپ نے ان کو کب بُلایا تھا کہ تا وہ آپ سے اجازت مانگ کر آتے۔اصل بات تو صرف اس قدر تھی کہ حافظ محمد یوسف صاحب نے مولوی صاحب ممدوح کی خدمت میں خط لکھا تھا کہ مولوی عبد الرحمن صاحب اس جگہ آئے ہوئے ہیں۔مَیں نے ان کو دو تین روز کے لیے ٹھہرا لیا ہے تا ان کے روبرو ہم بعض شبہات آپ سے دُور کرا لیں اور یہ بھی لکھا کہ اس مجلس میں ہم مولوی محمد حسین صاحب کو بھی بُلا لیں گے۔چنانچہ مولوی صاحب موصوف حافظ صاحب کے اصرار کی وجہ سے لاہور میں پہنچے اور منشی امیر الدین صاحب کے مکان پر اُترے اور اس تقریب پر حافظ صاحب نے اپنی طرف سے آپ کو بھی بُلا لیا تھا۔مولوی عبد الرحمن صاحب تو عین تذکرہ میں اُٹھ کر چلے گئے اور جن صاحبوں نے آپ کو بُلایا تھا۔انہوں نے مولوی صاحب کے آگے بیان کیا کہ ہمیں مولوی صاحب محمد حسین کا طریق بحث پسند نہیں آیا۔یہ تو سلسلہ دو برس تک ختم نہیں ہو گا۔آپ خود ہمارے سوال کا جواب دیجئے۔ہم مولوی محمد حسین صاحب کے آنے کی ضرورت نہیں دیکھتے اور نہ انہوں نے آپ کو بُلایا ہے۔تب جو کچھ ان لوگوں نے پوچھا۔مولوی صاحب موصوف نے بخوبی اُن کی تسلّی کر دی۔یہاں تک کہ تقریر ختم ہونے کے بعد حافظ محمد یوسف صاحب نے باانشراح صدر بآواز بلند کہا کہ اے حاضرین! میری تومِنْ کُلِّ الْوُجُوْہ تسلی ہو گئی۔اب میرے دل میں نہ کوئی شبہ اور نہ کوئی اعتراض باقی ہے۔پھر بعد اس کے یہی تقریر منشی عبد الحق صاحب اور منشی الٰہی بخش صاحب اور منشی امیر الدین صاحب اور میرزا امان اللہ صاحب نے کی اور بہت خوش ہو کر ان سب نے مولوی صاحب کا شکریہ ادا کیا اور تہہ دل سے قائل ہو گئے کہ اب کوئی شک باقی نہیں اور مولوی صاحب کو یہ کہہ کر رخصت کیا کہ ہم نے محض اپنی تسلّی کرانے کے لیے آپ کو تکلیف دی تھی