مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 204 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 204

آزمائش کرکے اپنی رائے کو بہ پایۂ صداقت پہنچاویں تو اُن کی ناصحانہ تحریروں کے کچھ معنے ہوں گے اس وقت تک تو اس کے کچھ بھی معنے نہیں بلکہ اُن کی محجوبانہ حالت قابل رحم ہے۔میں خوب جانتا ہوں کہ آج کل کے عقلی خیالات کے پرزور بخارات نے ہمارے علماء کے دلوں کو بھی کسی قدر دبا لیا ہے کیونکہ وہ ضرورت سے زیادہ انہیں خیالات ُپر زور دے رہے ہیں اور تکمیل دین و ایمان کے لئے انہیں کو کافی وافی خیال کرتے ہیں اور ناجائز اور ناگوار پیرائیوں میں روحانی برکات کی تحقیر کررہے ہیں اور میں خیال کرتا ہوں کہ یہ تحقیر تکلّف سے نہیں کرتے بلکہ فی الواقع اُن کے دلوں میں ایسا ہی جم گیا ہے اور اُن کی فطرتی کمزوری اس نزلہ کو قبول کر گئی ہے کیونکہ اُن کے اندر حقانی روشنی کی چمک نہایت ہی کم اور خشک لفاظی بہت سی بھری ہوئی ہے اور اپنی رائے کو اِس قدر صائب خیال کرتے اور اس کی تائید میں زور دیتے ہیں کہ اگر ممکن ہو تو روشنی حاصل کرنے والوں کو بھی اُس تاریکی کی طرف کھینچ لاویں۔ان علماء کو اسلام کی فتح صوری کی طرف تو ضرور خیال ہے مگر جن باتوں میں اسلام کی فتح حقیقی ہے ان سے بے خبر ہیں۔اسلام کی فتح حقیقی اس میں ہے کہ جیسے اسلام کے لفظ کا مفہوم ہے اسی طرح ہم اپنا تمام وجود خدا تعالیٰ کے حوالہ کردیں اور اپنے نفس اور اس کے جذبات سے بکلی خالی ہوجائیں اور کوئی بُت ہوا اور ارادہ اور مخلوق پرستی کا ہماری راہ میں نہ رہے اور بکُلی مرضیات الٰہیہ میں محوہوجائیں اور بعد اس فنا کے وہ بقا ہم کو حاصل ہوجائے جو ہماری بصیرت کو ایک دوسرا رنگ بخشے اور ہماری معرفت کو ایک نئی نورانیت عطا کرے اور ہماری محبت میں ایک جدید جوش پیدا کرے اور ہم ایک نئے آدمی ہوجائیں اور ہمارا وہ قدیم خدا بھی ہمارے لئے ایک نیا خدا ہوجائے یہی فتح حقیقی ہے جس کے کئی شعبوں میں سے ایک شعبہ مکالمات الٰہیہ بھی ہیں اگر یہ فتح اس زمانہ میں مسلمانوں کو حاصل نہ ہوئی تو مجرد عقلی فتح انہیں کسی منزل تک پہنچا نہیں سکتی۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اِس فتح کے دن نزدیک ہیں خدا تعالیٰ اپنی طرف سے یہ روشنی پیدا کرے گا اور اپنے ضعیف بندوں کا آمرزگار ہوگا۔